اسکولی مضامین کی تدریس کیلئے مساجد میں تعلیمی مراکز، مقامی طلبہ کو مفت تعلیم دینے اختراعی پہل

   

حیدرآباد 14 جولائی (سیاست نیوز) پرانے شہر حیدرآباد کے اکبر نگر علاقہ میں مساجد میں پارٹ ٹائم اسکولس یا مکتب چلائے جارہے ہیں جہاں ریاضی، سائنس، انگلش اور تلگو جیسے مضامین کی تدریس کا انتظام کیا جارہا ہے۔ ٹیکنالوجی پروفیشنلس کے ایک گروپ نے مقامی گورنمنٹ اسکول اور بجٹ اسکولس میں زیرتعلیم بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لئے یہ کام شروع کیا ہے۔ اکبر نگر کے پڑوس میں واقع دو منزلہ مسجد میں اس کے فرسٹ فلور پر اسکولی لڑکوں اور لڑکیوں کو عصر کی نماز کے بعد اسکولی مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے اور کلاسیس کا آغاز ہوتا ہے۔ عموماً مسجد کے خیال کے ساتھ عبادت اور عربی زبان کا تصور ذہن میں آتا ہے تاہم عبادت کے اس طرح کے مقامات کا ایک نیٹ ورک گویا مکاتب (پارٹ ٹائم اسکولس) میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں میاتھمیٹکس، سائنس اور انگلش کی تعلیم دی جارہی ہے۔ قرآن فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری سید منور نے کہاکہ مساجد میں چلائے جانے والے اس طرح کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام بچے مساجد کے پڑوس میں رہنے والے ہوتے ہیں۔ تلنگانہ میں 50 مساجد کے ساتھ ہمارے اس نیٹ ورک میں تقریباً 2500 طلبہ ہیں۔ اس پہل کا مقصد طلبہ کو مختلف مضامین میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ کئی اولیائے طلبہ کو اسکول فیس ادا کرنے میں جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور خانگی ٹیوشن کے لئے فیس ادا کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ یہ تعلیم مفت دی جارہی ہے۔ آئی ٹی پروفیشنل منور نے 2021 ء میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ محلہ ٹیوشن سنٹرس شروع کئے۔ اس کی کلاسیس بعد نماز عصر تا مغرب یا بعد نماز مغرب تا عشاء منعقد کی جاتی ہیں۔ ان کلاسیس میں شرکت کرنے والے بچے گورنمنٹ اسکولس یا چھوٹے خانگی اسکولس جنھیں عام طور پر بجٹ اسکولس کہا جاتا ہے کے ہوتے ہیں۔ ان کے والدین خود روزگار کے ذریعہ روزی حاصل کرنے والے یا اسکلڈ ورکرس ہیں۔ اس میں والدین کو واٹس ایپ کے ذریعہ ان کے بچوں کے پرفارمینس سے متعلق اپ ڈیٹس وصول ہوتے ہیں۔ بچوں کو بہتر تعلیمی مظاہرہ اور باقاعدہ حاضری کی ترغیب دینے کیلئے چھوٹے انعامات بھی دیئے جاتے ہیں۔