ممبئی، 18اگست (یو این آئی ) بالی ووڈ فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کو ایک ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے نغموں کو عام زندگی کے ساتھ منسلک کرکے ایک نئے دور کا آغازکیا۔جاں نثار اختر 1914میں مدھیہ پردیش کے گوالیار شہر میں پیدا ہوئے ان کے والد مضطر خیرآبادی بھی ایک مشہور شاعر تھے ۔ ان کا بچپن سے شاعری سے گہرا تعلق تھا۔انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لئے ان کی شاعری میں زندگی کے فسانے کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی غزل کا ایک شعر آج بھی لوگوں کے ذہن پر چھایا ہوا ہے ۔
انقلابوں کی گھڑی ہے ۔
ہر نہیں ہاں سے بڑی ہے ۔
ان کی غزلیں بھی جو مزاج کے اعتبار سے جدید تر بھی ہیں اور پرانی شعری روایت کا تسلسل بھی۔ انکی شاعری نعروں کی شاعری نہیں۔ مجموعی طور پر یہ شاعری کلاسیکیت ، رومانیت ، حقیقیت نگاری کا امتزاج اور عاشقانہ و نظریاتی شاعری کا نمونہ ہے ۔سال 1945ء اختر کے لئے خوشیوں کی سوغات لے کر آیا اس سال ان کا بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام انہوں نے جادو رکھا جو بعد میں جاوید اخترکے نام سے فلم انڈسٹری میں مشہور ہوئے ۔ سال 1947میں تقسیم کے بعد ملک بھر میں ہو ئے فرقہ وارانہ فسادات سے تنگ آکر اخترگوالیار چھوڑ کر بھوپال آ گئے ۔ بھوپال میں وہ مشہور حمیدیہ کالج میں اردوکے پروفیسر مقرر ہوئے لیکن کچھ دنوں کے بعد ان کا دل وہاں نہیں لگا اور وہ اپنے خوابوں کو نئی شکل دینے کے لئے 1949میں ممبئی آگئے ۔یہاں آکر انہوں نے فلمی دنیا کو کئی یادگار گیت دئیے ۔