لکھنؤ 3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر بہوجن سماج پارٹی مایاوتی نے جمعہ کے دن مطالبہ کیاکہ چیف منسٹر اشوک گہلوٹ کو برطرف کردیا جانا چاہئے اور اُن کو 100 سے زائد نومولود بچوں کی سرکاری زیرانتظام دواخانہ کوٹا میں اموات کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہئے۔ سابق چیف منسٹر یوپی نے الزام عائد کیاکہ گہلوٹ سیاسی بیانات دے رہے ہیں جو غیر ذمہ دارانہ اور غیر ہمدردانہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ انتہائی شرمناک ہے۔ مایاوتی نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہگہلوٹ کو برطرف کردیا جانا چاہئے اور اُن کی جگہ ایک نیا انتظام کیا جانا چاہئے ورنہ مزید خواتین اپنے بچے کھو بیٹھیں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ کم از کم 100 نومولود بچے سرکاری زیرانتظام ہاسپٹل کوٹا میں گزشتہ ماہ فوت ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر یوپی یوگی آدتیہ ناتھ اور بہوجن سماج پارٹی کی صدر کانگریس کو نومولود بچوں کی اموات کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ مایاوتی نے تجویز پیش کی کہ پارٹی قائد پرینکا گاندھی کو بچوں کی سوگوار ماؤں کو تسلی دینے کے لئے وہاں جانا چاہئے تھا۔ اِسکے بجائے وہ یوپی میں سیاست کھیل رہی ہیں۔
خواتین اور اقلیتی برادری کے ارکان کا شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی جلوس
نئی دہلی 3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) خواتین اور اقلیتی برادری کے ارکان نے آج ایک احتجاجی جلوس منڈی ہاؤز تا جنتر منتر نکالا جو شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف تھا۔ احتجاجی مظاہرین ہلّا بول اور آزادی کے نعرے لگارہے تھے۔ پوری فضاء قانون مخالف نعروں سے گونج رہی تھی جبکہ ایک مزدور شانتی دیوی ساکن مالویہ نگر نے کہاکہ حکومت کو چاہئے تھا کہ اِس قسم کے قوانین بنانے کے بجائے مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کرتی۔ اُنھوں نے کہاکہ انسداد غربت اور عوام کی طرز زندگی بہتر بنانے پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ غربت زدہ عوام کی بھلائی کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔