اشیاء ضروریہ اور ترکاریوں کی قیمتوں میں زبردست ا ضافہ

   

آمدنی سے زیادہ اخراجات سے غریب و متوسط طبقات پر اضافی مالی بوجھ

حیدرآباد ۔ 8 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بہ دن ا ضافہ سے چھوٹے اور متوسط طبقہ پر مالی بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے ۔ آمدنی میں اتنی تیزی سے اضافہ نہیں ہورہا ہے جتنی تیزی سے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اگر پورا خاندان بھی کام کرتا ہے تو بھی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں متوسط طبقہ کی زندگیوں پر شدید اثر ڈال رہی ہیں ۔ متوسط طبقہ کی ماہانہ آمدنی ، اخراجات سے میل نہیں کھا رہی ہے ۔ صبح سے شام تک بغیر فرصت کے کام کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خاندان کی کفالت کرنا بوجھ ثابت ہورہا ہے ۔ پیاز ، شکر ، چاول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گھر کا جو بجٹ ہے ، اس کے توازن کے کنٹرول کو ختم کر رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ سونا مسوری چاول کی قیمت 53 روپئے فی کیلو تھی، اب یہ بڑھ کر 65 روپئے ہوگئی ہے جبکہ شکر 40 روپئے فی کیلو تھی جو بڑھ کر 50 روپئے ہوگئی۔ اشیائے ضروریہ کی طرح ترکاریوں کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہورہا ہے ۔ گزشتہ ماہ ٹماٹر 30 روپئے فی کیلو تھا، اب بڑھ کر 80 روپئے تک پہنچ گیا ۔ سوجنی کی پھلی 80 روپئے سے بڑھ کر 120 ہوگئی ۔ خوردنی تیل میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک عام شہری نے بتایا کہ چار ماہ قبل ایک ماہ کیلئے درکار سازو سامان اور اشیائے ضروریہ کے اخراجات 10 ہزار روپئے ہوا کرتے تھے جو اب بڑھ کر 20 ہزار روپئے ہوگئے ہیں ۔ قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوجانے سے جہاں ایک طرف مالی بوجھ بڑھ گیا ہے ۔ وہی گھر کو لایئے جانے والی اشیاء میں کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے ۔ سونا مسوری چاول کی قیمت فی کیلو 53 روپئے سے بڑھ کر 65 روپئے ہوگئی۔کھوپرے کا پاؤڈر 200 روپئے سے بڑھکر 320 روپئے کیلو ہوگیا ۔ شکر 40 روپئے سے بڑھ کر 50 روپئے ہ وگئی ۔ اپما کا راوا 20 روپئے سے بڑھ کر 30 روپئے فی کیلو ہوگیا ۔ گیہو راوا 40 روپئے سے بڑھ کر 50 روپئے ہوگیا ۔ تور دال 170 سے بڑھ کر 185 ہوگئی۔ مونگ پھلی 50 روپئے سے برھ کر 70 روپئے ہوگئی ۔ پیاز 50 روپئے سے بڑھ کر 70 روپئے ہوگئی ۔ لہسن 360 روپئے سے بڑھ کر 440 روپئے فی کیلو ہوگیا ۔ 30 انڈے 120 روپئے سے بڑھ کر 145 روپئے ہوگئے۔ ترکاریوں میںٹماٹر 30 روپئے سے بڑھ کر 100 روپئے ، آلو 30 روپئے سے بڑھ کر 60 روپئے ۔ بیگن 40 روپئے سے بڑھ کر 80 روپئے ، بھینڈی 20 روپئے سے بڑھ کر 50 روپئے ، تورائی 40 روپئے سے بڑھ کر 80 روپئے ہوگئی ۔ 2