ایک نشست پر 2 لاکھ اور بی زمرہ کی بے قاعدگیوں میں ایک نشست پر 10 لاکھ روپئے جرمانہ کی گنجائش
حیدرآباد۔/5نومبر، ( سیاست نیوز) اڈمیشن اینڈ فیس ریگولیشن کمیٹی نے ریاست کے انجینئرنگ کالجس میں مقررہ فیس سے زیادہ فیس وصول کرنے اور بی زمرہ نشستوں کیلئے مختص کرنے کے عمل میں بے قاعدگیاں کرنے والے کالجس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا۔ صدرنشین اے ایف آر سی جسٹس پی سوروپ ریڈی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مختلف اُمور کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ جی او کے خلاف فیس وصول کرنے والے کالجس کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اضافی فیس وصول کرنے والے کالجس کے خلاف ایک نشست پر 2 لاکھ روپئے اور غیر مجاز طور پر مختص کردہ ایک نشست پر 10 لاکھ روپئے جرمانہ عائد کرنے کا کمیٹی نے قرارداد منظور کی ہے۔ ساتھ ہی کالجس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ سے وصول کردہ اضافی فیس فوری واپس کردیں۔ بی زمرہ میں نشستوں کی درخواستوں کا جائزہ نہ لینے کی شکایتوں کو کمیٹی نے متعلقہ کالجس سے رجوع کردیا ہے۔ ابھی تک بی زمرہ میں مختص کردہ نشستوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کا کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے۔ جو طلبہ داخلوں کیلئے اہل ہیں لیکن انہیں داخلوں سے محروم رکھا گیا ہے انہیں فوری داخلہ دینے کی متعلقہ کالجس کو ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی نے ریاست کے 159 انجینئرنگ کالجس کی فیس مقرر کرتے ہوئے حکومت نے حال ہی میں جی او جاری کیا ہے۔ اس جی او کے مطابق انجینئرنگ کی کم از کم سالانہ فیس 45 ہزار روپئے مقرر کی گئی ہے۔ ریاست میں 40 سے زائد کالجس میں فیس ایک لاکھ روپئے کی حد کو پارکرچکی ہے۔ اس فیس پر آئندہ تین سال تک عمل ہونے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ن