اعظم خان کی حمایت میں سماجوادی پارٹی کا دہلی میں مظاہرہ

,

   

سازش کے تحت 350 مقدمات درج کرنے کا حکومت پر الزام‘فوری رہائی کا مطالبہ

لکھنؤ۔20؍ستمبر (ایجنسیز )اتر پردیش کے سابق وزیر اعظم خان کی حمایت میں سماجوادی پارٹی کے کارکنون نے اتوار 20 ستمبر کو دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی کارکنان نے اعظم خان کی رہائی اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سماجوادی پارٹی کے قومی سکریٹری اور جونپور سے سابق رکن اسمبلی محمد ارشد خان کی قیادت میں اتوار کو پارٹی کارکن جنتر منتر پہنچے۔ محمد ارشد خان نے الزام عائد کیا کہ انہیں جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنے سے روکا گیا۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر علامتی احتجاج کیا۔محمد ارشد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مظاہرے کی اجازت تھی لیکن پولیس نے اچانک اسے منسوخ کر دیا۔ ہم لوگ یہاں مظاہرہ کرنے پہنچے تو پولیس نے چاروں طرف بیریکیڈنگ کر کے راستہ روک دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 2019 میں تمام سازشوں کے باوجود اعظم خان کو کامیابی ملی تھی۔ آئندہ چند ماہ میں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 مقدمات درج کر دیے گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں مقدمات درج ہونا سرکاری سازش کا ہی نتیجہ تھا۔ اعظم خان اور ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔محمد ارشد خان نے یہ بھی کہا کہ رامپور کی جوہر یونیورسٹی جائز طریقے سے بنی ہوئی ہے لیکن 3 ماہ پہلے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس دے دیا گیا۔ یہ نوٹس غلط طریقے سے دیا گیا۔ مطالبہ ہے کہ انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے۔ احتجاج کے دوران سماجوادی پارٹی رہنما وزیر اعظم کے نام ایک میمورنڈم بھی لے کر پہنچے۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ ’’یہ بات سب کو معلوم ہے کہ 2019 میں محض 3 سے 4 ماہ کی مختصر مدت میں اعظم خان، عبداللہ اعظم خان اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 مجرمانہ مقدمات درج کیے گئے۔ اس سے یہ شبہ مزید گہرا ہوتا ہے کہ کیا اتنے مقدمات حقیقی جرائم پر مبنی ہیں یا سیاسی مخالفت کی قیمت وصول کرنے کے لیے درج کیے گئے ہیں؟جوہر یونیورسٹی کا مسئلہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا سوال ہے۔ یہ صرف عمارتوں کا نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق اور روزگار سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس نوٹس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور حتمی فیصلے تک کسی بھی انہدام کی کارروائی پر روک لگائی جائے۔