اعظم خاں کی طرح کسی سیاسی خاندان کو اتنی ناانصافی کا سامنا نہیں کرنا پڑا

,

   

اکھلیش یادو کی جیل میں بند پارٹی قائد سے ملاقات، یوپی الیکشن پر بات چیت، میڈیا سے خطاب

نئی دہلی۔22؍اکتوبر ( ایجنسیز )سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعرات کو رام پور ڈسٹرکٹ جیل میں پارٹی کے قید رہنما اعظم خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے الزام لگایا کہ کسی بھی سیاسی خاندان کو اتنی ناانصافی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا کہ اعظم خان کے خاندان کو کرنا پڑا ہے۔ یہ ملاقات 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ہوئی ہے جس کے پیشِ نظر سماج وادی پارٹی اپنی انتخابی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔میڈیا کے مطابق یادو نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اعظم خان کے خلاف سیاسی انتقام کی کارروائی کر رہی ہے اور ان پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ کسی بھی سیاسی خاندان کو اتنی ناانصافی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا کہ اعظم خان کے خاندان کو کرنا پڑا ہے۔یادو نے بتایا کہ انہوں نے اعظم خان کے ساتھ اسمبلی کی تمام 403 نشستوں (حلقوں) پر تبادلہ خیال کیا اور اس دوران پارٹی کے اتحادی شراکت داروں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز پر بھی بات چیت ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ رام پور سے کون انتخاب لڑے گا تو انہوں نے نام بتانے سے گریز کیا اور کہا کہہم ابھی یہ کیوں بتائیں؟اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو نومبر 2025 میں رام پور کی ایک عدالت نے دوہرے پین کارڈ ( PAN CARD) کے مقدمات میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ معاملہ ان کی تاریخ پیدائش میں تضادات سے متعلق تھا۔ اعظم خان کو نفرت انگیز تقاریر اور جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ سمیت دیگر کئی مقدمات میں بھی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔یادو نے بی جے پی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ‘ جو اعظم خان سے وابستہ ادارہ ہے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ادارے کو تباہ کرنے کیلئے ایک سازش رچی گئی ہے۔اکھلیش یادو نے الزام لگیا کہ بی جے پی کو تعلیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔