افتخار الصوفیہ حضرت سید شاہ اعظم علی صوفی اعظم ثانی ؒ

   

Ferty9 Clinic

از : خیرالدین صوفی
حضرت علامہ الحاج سید شاہ اعظم علی صوفی اعظم ثانی قادری ۶ فروری ۱۹۴۱؁ء کو ایسے گھرانے میں تولد ہوئے جو علم و عرفان کا مرکز ہے۔ آپ ابو الحسنات حضرت علامہ سید شاہ شجاع الدین علی صوفی القادری مدنی بادشاہ کے فرزند اکبر اور بارگاہ قطب دکن حضرت صوفی اعظم و خانقاہ صوفیہ کے سجادہ نشین کے ساتھ ساتھ اپنے دادا حضرت صوفی اعظم والد ابوالحسنات کے مسند ارشاد کے وارث و جانشین بھی تھے۔آپ کی تعلیم سٹی کالج، چادر گھاٹ کالج عثمانیہ یو نیورسٹی آرٹس کالج ،میں ہوئی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے ۱۹۶۲ء ؁میں کامرس میں پوسٹ گریجویشن (ایم کام ) کیا۔ بمبئی کے امتحان سی اے آئی آئی بی ،منعقدہ ۱۹۶۷ء ؁میں مولانا نے امتیازی کامیابی حاصل کی اور اکاؤنٹنسی میں ملک بھر میںسب سے زیادہ نشانات حاصل کر کے گولڈ میڈل ایوارڈ حاصل کیا۔ دینی علوم میں قرآن، وحدیث فقہ، تصوف ،عربی زبان فارسی اپنے عم محترم حضرت ابوالفیض سید شاہ سجاد علی صوفی واعظ عالی اور اپنے والد محترم حضرت ابو الحسنات سید شاہ شجاع الدین علی صوفی القادری مدنی سے حاصل کیا۔ آپ نے اپنے خسر محترم پروفیسر سید شاہ لیاقت حسین قادری صدر شعبۂ عربی جامعہ عثمانیہ سے بھی تصوف اور دیگر علوم میں استفادہ کیا۔ آپ نجیب الطرفین سادات تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب ۲۳ ویں پشت میں حضرت غوث الاعظم سے جاملتا ہے اس لئے آپ حسنی و حسینی قادری ہیں۔ حضرت اعظم علی صوفی کی زندگی کا اہم ترین مشن تعلیم ( دینی و دنیوی ) ۴۴ سال تک جاری رہا۔ آپ ۷سال کی عمر میں آپ نے پہلا وعظ فرمایا۔ ۱۹۶۴ء سے آپ نے باضابطہ کا مرس کی تعلیم کا اپنے مکان تصوف کردہ میں بی کام ، ایم کام کی کلاس کا آغاز فرمایا جو آپ کے وصال تک جاری رہا۔ آپ کا طریقہ تدریس بہت سادہ دلنشین تھا۔افتخار الصوفیہ کی قیام گاہ شہر حیدرآباد میں دینی و دنیوی تعلیم کی قدیم واہم ترین مرکز کی حیثیت سے جانی مانی جاتی ہے۔ حضرت کو اپنے والد محترم سے اجازت بیعت و خلافت حاصل تھی ۔ آپ کے دست حق پرست پر سینکڑوں تشنگان علم و عرفان حلقہ ارادت میں شامل ہوئے ۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی کے مواعظ و خطبات کا سلسلہ ۵۶ سال کے طویل عرصہ تک جاری رہا۔ آپ نے ۴ مرتبہ امریکہ کا دورہ کیا اور کئی مقامات پر اردو اور انگریزی میں خطاب کیا۔مولا نا محترم کی خصوصیت یہ تھی کہ جس طرح آپ اردو میں خیالات کا اظہار کرتے تھے اسی طرح انگریزی میں بھی بے تکان روانی کے ساتھ اظہار خیال کرتے تھے جس سے اہل زبان بھی انگشت بدنداں ہوجاتے۔ آپ اپنے مکان تصوف کدہ میں پابندی سے سالانہ مجالس ربیع الاول ، ربیع الثانی ،محرم اور اعراس صوفی اعظم وابوالحسنات وابوالفیض صوفی آپ کےوالد محترم کے بعد آپ کے زیر نگرانی ۶سال تک جاری رہا۔ درگاہ حضرت قطب دکن کی تعمیر نو مکمل آپ کی ہی خصوصی دلچسپی سے ہی انجام پائی ۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے منعقدہ عازمین حج کے تربیتی اجتماعات سے بھی مخاطب کیا کرتے تھے۔ ۱۹۸۰ء میں آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ مولا نا محترم نعت گو شاعر تھے۔ صوفی اعظم تخلص فرماتے تھے۔مولانا کی زندگی قرآن شریف و حدیث مطہرہ کا آئینہ تھی۔ آپ صبرو استقامت حلم و بردباری انکساری مشفق کیساتھ عزم وارادہ کے عظیم پیکر تھے۔علم و عرفان میں آپ کو خاصہ کمال حاصل تھا۔آپ ایسے عاشق رسول ﷺ تھے کہ اللہ تعالی نے آپ کی عمر ہجری سن کے حساب سے ۶۳ سال عطا فرمائی اور آپ ۱۳ رجب (سرچشمۂ ولایت حضرت علی کی ولادت کی تاریخ و مہینہ ) کو روز دوشنبہ ادائی نماز فجر کے ساتھ واصل بحق ہو گئے ۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَo