دماغ و دل میں ابھی آپ کے اندھیرا ہے
قدم بڑھائیے کچھ ہم سے روشنی لیکر
ملک میں گذشتہ تین ماہ میںقدرے راحت کے بعد اگسٹ ریٹیل افراط زر کی شرح میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اوریہ شرح بڑھ کر 7 فیصد کے قریب پہونچ گئی ہے ۔ ملک میں عوام کو مسلسل مہنگائی کی مار سہنی پڑ رہی ہے ۔ خاص طور پر ریٹیل افراط زر کی شرح میں اضافہ عام آدمی پر پڑنے والے بوجھ کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ریٹیل مارکٹ میںمہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ضروریات زندگی کی کوئی شئے ایسی نہیں رہ گئی ہے جس کی قیمتیں آسمان نہیںچھو رہی ہوں۔ ہر شئے کی قیمت دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے اور جہاں تک آمدنی کی بات ہے تو یہ اضافہ کی بجائے گھٹتی جا رہی ہے ۔ روزگار اور ملازمتیں بھی کم ہوتی جا رہی ہے ۔ لاکھوں افراد گذشتہ چند ماہ میں اپنے روزگار اور ملازمتوںسے محروم ہوگئے ہیں۔ نوکریاں حکومت کی جانب سے فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور نہ ہی خانگی شعبہ میں کوئی زیادہ مواقع دستیاب ہو رہے ہیں۔ جہاں تک تجارت اور کاروبار کی بات ہے تو مارکٹ کی صورتحال دیکھتے ہوئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تجارتی اداروں کی حالت بھی مختلف نہیں ہے اور وہ بھی انحطاط کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ صنعتی یونٹیں تو بند ہونے کے قریب پہونچ گئی ہیں اورکچھ بند بھی ہوگئی ہیں۔ کچھ اداروں میں حالانکہ کام کاج کو برقرار رکھا گیا ہے لیکن وہاں بھی ملازمین کی تخفیف ہو رہی ہے ۔ نئی بھرتیاں تقریبا بند کردی گئی ہیں۔ مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے عوام کے معیار زندگی پر اثر پڑتا جا رہا ہے ۔ لوگ جو خط غربت سے کسی قدر اوپر اٹھنے لگے تھے اب دوبارہ غربت کی سطح سے نچلی زندگی گذارنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ پٹرول اور فیول کی قیمتوں میںاضافہ نے عوام پر بوجھ عائد کردیا تھا ۔ اس کے بعد گیس سلینڈر کی قیمتیں بڑھتی گئیں۔ اب وہ 11سو روپئے فی سلینڈر سے پار ہوگئی ہیں ۔ ترکاریاں اور دالیں بھی عوام کی پہونچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے الگ کسانوں کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔د رمیانی آدمیوں نے بھی کسانوں کے نفع پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے ۔ عوام کو راحت ملنے کی امیدیں تو کہیں دم توڑ چکی ہیں اور بوجھ کا جہاں تک سوال ہے تو وہ مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔
جب حکومت کو مہنگائی اور افراط زر کی شرح میںاضافہ کی یاد دلائی جاتی ہے تو پہلے تو حکومت مہنگائی سے ہی انکار کردیتی ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ملک میں کوئی مہنگائی نہیں ہے ۔ اگر کہیں اعتراف کیا بھی جاتا ہے تو وہ دبا دبا ہوتا ہے اور صورتحال کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ یہ مہنگائی نہیں ہے بلکہ قوم کی تعمیر میںعوام کا حصہ ہے ۔ یہ در اصل عوام کو سبز باغ دکھانے اور کڑوی دوا مٹھاس میں بھر کر دینے کے مترادف ہے ۔ حکومت عوام کو کسی طرح کی راحت دینے کیلئے تیار نہیں ہے اور کارپوریٹ گھرانوں اور بڑے تاجروں کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کروڑ روپئے کے قرضہ جات مسلسل معاف کئے جا رہے ہیں۔ جو کارپوریٹ تاجر ہزاروں کروڑ روپئے قرض لے کر بیرونی ممالک کو فرار ہوچکے ہیں نہ انہیں واپس لایا جا رہا ہے اور نہ ملک میں ان کی جائیداد و املاک کی قرقی کی جا رہی ہے ۔ نت نئے انداز سے عوام پر بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ بینک میں رقومات جمع کرنے اور نکالنے پر ٹیکس عائد ہو رہا ہے ۔ ادویات کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکومت خود سرکاری دواخانوںمیں علاج کی یا ادویات کی کوئی سہولت فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ تعلیم کو مسلسل مہنگا کردیا گیا ہے ۔ جو لوگ اپنے بچوں کا مستقبل روشن اور تابناک بنانا چاہتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دودھ اور خوردنی تیل جیسی لازمی اور ضروری اشیا کی قیمتیں بھی اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ عوام ان کے حصول میں بھی مشکل محسوس کر رہے ہیں۔
مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کا جہاں تک سوال ہے تو وہ بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے میں مہارت رکھتی ہے اور مہنگائی کے بنیادی مسئلہ سے بھی عوام کی توجہ ہٹانے میں مصروف ہے ۔ بی جے پی کی ان کوششوں میں زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹو اینکرس بھی اہم اور سرگرم رول ادا کر رہے ہیں۔ وہ بھی ان مسائل پر مباحث کروانے کی بجائے ہندو ۔ مسلم کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی خامیوں کو پیش کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے حکومت کے تلوے چاٹنے میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن کو اس اہم مسئلہ پر توجہ کرتے ہوئے حکومت کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے ۔
