لندن۔ افغانستان میں زمین کے نیچے دفن بے پناہ دولت پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ وہاں سونے، تانبے کے ساتھ ساتھ لیتھیم بھی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی قیمت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن اب یہ سوال ہو رہے ہیں کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد قدرتی ذخائر پر کس کا اختیار ہوگا؟ جیسے ہی امریکہ نے اپنی 20 سالہ مہم ختم کرنے کے بعد واپس ہونے کا فیصلہ کیا، طالبان نے اپنے پاوں پھیلانا شروع کر دیے۔ برسوں تک جنگی صورت حال کا سامنا کرنے والے اس ملک میں طالبان ایک بار پھر اقتدار میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طالبان یہاں موجود قدرتی دولت، انسانی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟ سوویت اور امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں اور وادیوں میں تانبے، باکسائٹ، خام لوہے کے ساتھ ساتھ سونا اور سنگ مرمر جیسے بہت قیمتی معدنیات ہیں۔ اگرچہ افغانستان ابھی تک ان کی کھدائی اور انھیں فروخت کرنے کے قابل نہیں ہوا ہے، لیکن ان سے حاصل ہونے والی کمائی لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ ہندوستان، برطانیہ، کینیڈا اور چین کے سرمایہ کاروں نے وہاں کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں لیکن کسی نے بھی ابھی تک کان کنی شروع نہیں کی ہے۔عالمی بینک نے تجارت کے لیے موزوں ممالک کی درجہ بندی میں افغانستان کو 190 میں سے 173 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ جبکہ افغانستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوان ممالک کی فہرست میں 180 میں سے 165 ویں نمبر پر ہے۔کان کنی کے لیے بہترین مقامات کے بارے میں معلومات ایک طویل عرصے سے حاصل ہیں۔