اقامتی اسکولوں کیلئے وقف اراضی کا الاٹمنٹ سکریٹریٹ میں تعطل کا شکار

   

3 ماہ سے فائیل سکریٹری کے پاس زیر التواء، فنڈز کی موجودگی کے باوجود ماتحت عہدیدار بے بس
حیدرآباد۔/16 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کے بارے میں کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس محکمہ کو اقلیتوں کی بھلائی اور ان کی تعلیمی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے حق میں فیصلے اور اعلانات کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود عمل آوری میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔ فائیلوں کی یکسوئی میں اعلیٰ عہدیداروں کی عدم دلچسپی کا ایک نیا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے 8 مختلف مقامات پر وقف اراضی الاٹ کی گئی لیکن محکمہ اقلیتی بہبود نے ابھی تک وقف بورڈ کے فیصلہ پر اپنی منظوری کی مہر نہیں لگائی ہے۔ اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اجازت کے بغیر سکریٹری سے ملاقات کی جرأت نہیں کرسکتے۔ سکریٹری اور ماتحت عہدیداروں کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری متاثر ہوئی ہے۔ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں بھی اعلیٰ عہدیداروں کا رویہ معنیٰ خیز ہے۔ واضح رہے کہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی نے اسکولوں کی ذاتی عمارتوں کی تعمیر کیلئے وقف اراضی الاٹ کرنے کی وقف بورڈ سے درخواست کی ہے۔ وقف بورڈ نے حکومت سے اجازت حاصل کرتے ہوئے 13 ستمبر کو قرارداد منظور کی جس میں 8 مقامات پر وقف اراضی کو 30 سالہ لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سالانہ 10 ہزار روپئے فی ایکر کے حساب سے اراضی الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف ایگزیکیٹو آفیسر کو سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی سے معاہدہ کی ذمہ داری دی گئی۔ وقف بورڈ نے درگاہ حضرت بابا شرف الدین ؒ کی وقف اراضی مامڑ پلی میں تین مقامات اور حیات نگر کے کوہیڈا میں ایک مقام پر نشاندہی کی ہے۔ 10 تا 20 ایکر اراضی اسکول کی ضرورت کے اعتبار سے لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ لال دروازہ میں مسجد پھول باغ، کلثوم پورہ میں جامع مسجد، خیریت آباد میں مسجد قطب شاہی اور کاروان میں ٹولی مسجد کی وقف اراضی اسکولوں کی تعمیر کیلئے لیز پر دینے کی قرارداد منظور کی گئی۔ مجموعی طور پر 8 اسکولوں کیلئے 56 ایکر 23 گنٹہ اراضی لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کی قرارداد کو منظوری کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود کے پاس روانہ کیا گیا لیکن سکریٹری کے دفتر میں فائیل برفدان کی نذر کردی گئی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کی جانب سے توجہ دہانی کے باوجود سکریٹری نے فائیل کو منظوری نہیں دی جس کے نتیجہ میں اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے کام میں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تعمیری کاموں کیلئے بجٹ موجود ہے اور وقف اراضی کے الاٹمنٹ کا مقصد قیمتی اراضیات کو ناجائز قبضوں سے بچانا ہے۔ حکومت کی جانب سے گرین سگنل کے باوجود سکریٹری اقلیتی بہبود کا رویہ وقف بورڈ اور اقامتی اسکول سوسائٹی دونوں کیلئے حیرت کا باعث بن چکا ہے۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے اسکولوں کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اقامتی اسکولوں کیلئے اراضی الاٹمنٹ کا فیصلہ کب حقیقت میں تبدیل ہوگا۔ر