ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہماری جمہوریت کو دنیا بھر میں ایک منفرد اور مثالی شناخت حاصل ہے ۔جمہوریت کو استحکام بخشنے میںہندوستان ہمیشہ ہی سب سے آگے رہا ہے تاہم حالیہ چند برسوں کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں اپنے اقتدار کے نشہ میںگم ہیں۔ انہیںعوامی مخالفت یا جذبات واحساسات کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ نہ اپوزیشن کو خاطر میں لانے تیار ہیں اور نہ ہی ناقدانہ صحافت کو برداشت کرنے تیار ہیں۔انہیںصرف اور صرف پارلیمنٹ اور اسمبلیوںمیںاپنے اقتدار کا گھمنڈ ہے اور وہ اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتے ہوئے من مانی کرنے سے بالکل بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ چاہے تعلیم کے شعبہ کو زہر آلود کرنا اور فرقہ ورانہ ایجنڈہ کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا ہو یا پھر مختلف قوانین کی تیاری ہو۔ ہر معاملے میںحکومتوں نے اقتدار کے زعم میںکام کیا ہے ۔ گذشتہ دنوں ہریانہ میں کسانوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ۔ پولیس نے پتہ نہیںکس کے اشارے پر کسانوںکے خلاف لاٹھیوںکا بے ؎دریغ استعمال کیا ۔ ایک عہدیدار نے تو پولیس کو باضابطہ ہدایت دی کہ جو کسان رکاوٹیںپھاندتے ہوئے احتجاج کرنا چاہیںان کے سر توڑ دئے جائیں۔ ان کے ساتھ بالکل بھی کوئی رحم نہ کیا جائے ۔ یہ جو طریقہ کار ہے وہ کسی جمہوری ملک یا جمہوری حکومت کا نہیںہوسکتا ۔ یہ بالکل آمرانہ روش ہے اور انگریزی سامراج کی یادد لاتا ہے ۔ کسان برداری اپنے جائز مطالبات کیلئے احتجاج کر رہی ہے ۔ اس احتجاج کو بھی ایک سال کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ حکومت اپنے ہٹ دھرمی والے رویہ کو ترک کرنے کیلئے تیار نہیںہے ۔کسانوںکے ساتھ بات چیت کے نام پر محض ڈھونگ کیا جا رہاہے ۔ انہیںنشانہ بناتے ہوئے خالصتانی یا بیرونی ممالک کے آلہ کار تک قرار دیدیا گیا ہے ۔ اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکروں کی خدمات سے استفادہ کیا جار ہا ہے لیکن سارے ملک کیلئے اناج پیدا کرنے والے کسانوں سے کوئی بات چیت نہیںکی جا رہی ہے ۔ کسان برادری اب ہریانہ میں لاٹھی چارچ میںزخمی ہونے والوںکیلئے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے لیکن حکومت اس معاملے میں بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے تیار نہیںہے ۔
ہریانہ ہو یا پھر اترپردیش ہو یا پھر ملک کی دوسری ریاستیں ہوں ٹی وی چینلوں پر بیٹھنے والے اینکروںکو استعمال کرتے ہوئے کسانوںکوبدنام اور رسواء کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہیںمار پیٹ کر زخمی کیا جا رہا ہے اور باضابطہ سرکاری سطح پر احکام دئے جا رہے ہیں کہ کسانوںکے سر توڑ دئے جائیں۔ اس کے باوجود حکومتیں ایسے احکام دینے والے عہدیداروںکے خلاف نہ توکوئی کارروائی کر رہی ہیںاور نہ ہی کسانوںکے ساتھ کسی طرح کے تسلی اور دلاسہ والا رویہ اختیار کر رہی ہیں۔ یہ روش بالکل بھی جمہوری روش نہیںہے بلکہ آمرانہ روش ہے جس کے نتیجہ میںکسان برداری اپنے احتجاج کو مزید طوالت دینے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ اگر لاٹھی سے زخمی ہونے والے کسان حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں تو انہیںتسلی دی جانی چاہئے ۔ان کے ساتھ انصاف کیا جانا چاہئے ۔ عہدہ اور اقتدار کا بیجا استعمال کرنے اور لاٹھیاں برسانے والوںکے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ لیکن بی جے پی کی حکومتیں ایسا لگتا ہے کہ اقتدار ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھی ہیں اور جمہوری اصولوںکی پاسداری کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے ۔ من مانی انداز میںحکومت چلانے کی روش ہندوستان میںکبھی نہیںرہی اور سب کے مشوروں پر کام کیا گیا ہے لیکن اب اس روایت کو بدلا جا رہا ہے اور محض اقتدار ہی کو سب کچھ سمجھا جا رہا ہے اورطاقت کا استعمال ہو رہا ہے ۔
قومی سطح پر بھی اسی طرح کی روایت ڈال دی گئی ہے ۔ مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے مقدمات میںپھانسا جا رہا ہے ۔ انہیںدھمکایا جا رہا ہے ۔ جیل بھیجا جا رہا ہے ۔ معمولی باتوںپر ملک دشمنی اور غداری کے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ کسی بھی اپوزیشن کو قبول کرنے حکومت تیار نہیں ہے جبکہ ہماری جمہوریت کی سب سے منفرد اور مثبت مثال یہی ہے کہ یہاںکئی جماعتیں ہیں جو نظریاتی اختلاف کے باوجود ملک کے استحکام اور مفاد میں کام کرتی ہیں۔ اس روش کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔حکومتوںکو اپنے اقتدار کے نشہ سے باہر آکر عوامی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کرنا چاہئے ۔ جمہوریت کو کمزورکرنے والے اقدامات کی بجائے اسیمستحکم کرنے والے اقدامات کرنے چاہئیں۔
