امیدواروں کو مسلمانوں سے ربط قائم کرنے کی ہدایت ، اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی فہرست تیار،مجلس پر انحصار کافی نہیں
حیدرآباد ۔16۔نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹراور بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے مسلم اقلیت کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے نئی حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت حکومت کی اسکیمات ے استفادہ کرنے والے خاندانوں سے ربط قائم کرنے پارٹی امیدواروں کو ہدایت دی گئی۔ گزشتہ دو انتخابات میں اقلیتوں نے بی آر ایس کی تائید کی تھی اور کے سی آر کو امید تھی کہ تیسری مرتبہ بھی انہیں مسلم اقلیت کی مکمل تائید حاصل ہوگی۔ اسمبلی الیکشن کی مہم کا جیسے ہی آغاز ہوا ، مسلم رائے دہندوں نے کرناٹک کی طرز پر تبدیلی کا من بنالیا اور کانگریس کی طرف جھکاؤ بڑھنے لگا ہے۔ ریاست بھر میں مسلم ووٹ سے محرومی کے نتیجہ میں بی آر ایس تقریباً 40 نشستوں سے محروم ہوسکتی ہے اور حکومت کی تشکیل کے لئے درکار تعداد کا حاصل ہونا ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں کے سی آر نے مسلمانوں کو دوبارہ بی آر ایس کے خلاف لانے کیلئے حکمت عملی تیار کی ہے اور سرکاری محکمہ جات سے اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی فہرستیں حاصل کی گئیں تاکہ ان سے ربط قائم کیا جائے۔ پارٹی امیدواروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اقلیتی رائے دہندوں سے گھر گھر پہنچ کر ملاقات کریں اور استفادہ کنندگان سے ٹیلی فون پر ربط قائم کرنے کیلئے سوشیل میڈیا کی ٹیم تشکیل دی جائے۔ کے سی آر نے ابھی تک تقریباً 60 اسمبلی حلقہ جات میں امیدواروں کی مہم میں حصہ لیا اور انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ مسلم اقلیت کانگریس سے دوری اختیار کر رہی ہے۔ بی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی مخالف بی آر ایس مہم سے بعض اسمبلی حلقہ جات سے بی آر ایس کو مسلم ووٹ کا نقصان ہوسکتا ہے ۔ حکومت کے خلاف کانگریس کی مہم سے اقلیتی رائے دہندے الجھن کا شکار ہیں ، امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے اجلاس منعقد کریں اور انہیں گزشتہ 9 برسوں کے کارناموں سے واقف کرایا جائے ۔ پارٹی نے شادی مبارک اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیمات کے استفادہ کنندگان سے شخصی طور پر ربط قائم کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مذہبی شخصیتوں اور مذہبی اداروں کے ذمہ داروں سے ملاقات کریں۔ پارٹی کو یقین ہے کہ مسلم رائے دہندے لمحہ آخر میں بی آر ایس کی تائید کریں گے۔ اگر مسلم ووٹ تقسیم بھی ہوتے ہیں تو بی آر ایس کو محض 20 نشستوں کا نقصان ہوگا جو تشکیل حکومت میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ کے سی آر اپنی تقاریر میں اردو زبان میں مسلم رائے دہندوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ نے مسلم ووٹ حاصل کرنے کیلئے مذہبی رہنماؤں اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام کیا ہے۔
حالیہ عرصہ میں کئی مسلم تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں سے کے ٹی آر اور ہریش راؤ نے ملاقات کی۔ شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں مسلم ووٹ کے لئے بی آر ایس نے مجلس پر انحصار کیا ہے لیکن اضلاع میں اسے مسلم ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ بی آر ایس کے امیدواروں کی مہم کس حد تک کامیاب رہے گی۔