اس بار کہانی کو نیا موڑ ملے گا
اس بار وہ کردار بدلتا ہوا آیا
اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر کے فرزند نے طاقت اور عہدہ کے گھمنڈ میں کسانوں پر گاڑی دوڑا دی اور انہیں روند دیا ۔ یہ شائد ہندوستان کی تاریخ کا شاذ و نادر پیش آنے والا واقعہ کہا جاسکتا ہے جب ملک کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے فرزند نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو زندہ روند ڈالا ۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ملک کے کسان ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن مرکزی حکومت ان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ اب اس کے وزراء اور ان کے افراد خاندان کسانوں کو روند رہے ہیں اور ایک طرح سے ان کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے سے روکنے کیلئے طاقت کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ایک طرف اترپردیش حکومت کسانوں کے احتجاج کو دبانے کچلنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے تو دوسری طرف مرکزی وزیر کے فرزند کسانوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے انہیں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ کسانوں کی جانب سے اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر اور دوسرے بی جے پی قائدین کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا اور مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ اجئے مشرا کے فرزند آشیش مشرا نے غصہ اور برہمی کی حالت میں ان پر گاڑی دوڑا دی جس کے نتیجہ میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہوگئے ۔ یہ واقعہ ہندوستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ بھی کہا جاسکتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک مرکزی وزارت سے اجئے مشرا نے استعفی پیش نہیں کیا ہے ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے کسی رد عمل کا اظہار تک نہیں کیا ہے ۔ امیت شاہ کو اس لئے بھی رد عمل ظاہر کرنا چاہئے کیونکہ ان کے جونئیر وزیر کے فرزند نے کسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مہلوکین کیلئے 45 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایک طرح سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی گئی ہے ۔
اس واقعہ سے حکومت میں شامل افراد اور ان کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ایک طرح سے یہ دہشت گردانہ کارروائی کے مترادف ہی ہے کیونکہ دہشت گرد بھی اسی طرح زندہ انسانوں پر اپنی گاڑیاں دوڑاتے ہوئے دھماکے کرتے ہیں۔ یہاں مرکزی وزیر کے فرزند نے زندہ انسانوں کو اپنے والد کے عہدہ کے زعم میں اپنی گاڑی سے روند دیا ۔ حکومت نے حالانکہ اس واقعہ کی برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کردیا ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اسی لئے مرکزی وزارت سے اجئے مشرا کو علیحدہ کیا جانا چاہئے ۔ انہیں کسانوں یا ملک کے عوام سے زرہ برابر بھی ہمدردی ہوتی یا جس وزارت کے وہ ذمہ دار ہیں اس کا انہیں احساس ہوتا تو انہیں اب تک تو استعفی پیش کردینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ ایسے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ووہ اجئے مشرا کو مرکزی کابینہ سے نکال باہر کریں اور کم از کم اب کسانوں کے ساتھ انصاف کرنے کیلئے آگے آئیں۔ ان کے جائز مطالبات کی سنوائی کریں۔ ان کے ساتھ بات چیت کی جائے ۔ ان کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے ان کے احتجاج کو ختم کرنے کی سمت پیشرفت کی جائے ۔ حکومت اگر کسانوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے پہل کرتی ہے تو اس سے اس کے وقار میں کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ اس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہی ہوگا لیکن مودی حکومت شائد ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگی ۔
بی جے پی حکومتوں کی جانب سے جس طرح اقتدار کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے اور طاقت کے گھمنڈ میں مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے وہ انتہائی بد بختانہ عمل ہے اور ایسے واقعات کا تدارک ہونا چاہئے ۔ لکھیم پور کھیری میں پیش آئے واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہئے ۔ انہیں کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے اور ان کی سیاسی وابستگی کا پاس و لحاظ کئے بغیر سزائیں دلوائی جانی چاہئیں۔ مرکزی حکومت اور اس کے ذمہ داروں کو آگے آتے ہوئے کسانوں سے معذرت خواہی کرنے کی ضرورت ہے طاقت کے گھمنڈ اور اقتدار کے غرور سے باہر نکل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
