رکن اقلیتی کمیشن شہزادی بیگم کا جائزہ اجلاس، وقف بورڈ اور اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی سے غیر مطمئن
حیدرآباد۔/2 اگسٹ، ( سیاست نیوز) قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی بیگم نے آج اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ مرکزی حکومت کی اقلیتوں سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ خواجہ معین الدین کے علاوہ اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور اقامتی اسکول سوسائٹی کے عہدیدار اجلاس میں شریک تھے۔ سید عمر جلیل نے اجلاس میں مرکزی حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری اور بجٹ کی اجرائی سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ شہزادی بیگم کو بتایا گیا کہ مرکزی فنڈز سے اقامتی اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے بہتر نتائج اور مسابقتی امتحانات میں اقلیتی طلبہ کے مظاہرے کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شہزادی بیگم نے اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ کی اجلاس میں غیر حاضری پر ناراضگی جتائی۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولس کے کئی معاملات میں شفافیت نہیں ہے۔ تقررات اور مینٹننس کے بارے میں کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شہزادی بیگم نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بارے میں تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی میں بورڈ ناکام ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے دھرانی پورٹل پر اوقافی اراضیات کے ریکارڈ کو درست کرنے اور آٹو لاک کی گئی جائیدادوں کا حقیقی رقبہ شامل کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی معاملات میں وقف اراضی کا رقبہ شامل کرنے کے بجائے مکمل سروے نمبر آٹو لاک کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں غیر وقف اراضی کے رجسٹریشن میں دشواری ہورہی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ وقف بورڈ سے جائیدادوں کے ریکارڈ کے کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجٹلائزیشن کے بارے میں دریافت کیا۔ شہزادی بیگم نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی سے متعلق اسکیمات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں مدعو کئے گئے بعض محکمہ جات کے عہدیدار غیر حاضر رہے جس پر رکن قومی اقلیتی کمیشن نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضلع واری سطح پر کلکٹرس کے ساتھ اجلاس منعقد کررہی ہیں۔
