اقلیتوں کو قرض اجرائی کا مطالبہ

   

Ferty9 Clinic

کمپیوٹر ٹریننگ کورس کی بھی بحالی پر زور: یوسف بن ناصر

محبوب نگر ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے قرضہ جات کی اسکیمات کے تحت 112

unit

کا اعلان کیا گیا۔ جس پر آج تک عمل آوری نہیں ہوئی۔ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں نے صنعتیں و تجارت کے لئے کارپوریشن کو پانچ تا دس لاکھ قرضہ جات حاصل کرنے کے لئے درخواستیں دی تھیں۔ اس کو ضلعی سطح کے میناریٹی ویلفیر آفیسر اور عہدیدار کے ساتھ انکوائری کرکے اہلیت رکھنے والے درخواستوں کو میناریٹی ویلفیر آفیسر نے منظوری کے لئے کارپوریشن کو بھجوادیا۔ آج تک ان نوجوانوں کی درخواستوں کی یکسوئی نہیں کی گئی اور نہ قرضہ جات جاری کئے گئے۔ حالیہ دنوں میں اقلیتی فینانس کارپوریشن مینیجنگ ڈائرکٹر نے اخبار کے ذریعہ کہا ہے کہ کارپوریشن غریبوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کے لئے پچاس ہزار سبسیڈی کا منصوبہ رکھتا ہے جو کارپوریشن سے راست طور پر جاری کئے جائیں گے۔ کارپوریشن کی جانب سے 112 یونٹس کااعلان کیا جاچکا تھا۔ اس اسکیم پر پہلے عمل آوری کی جاکر قرضہ جات کی اجرائی جلد کی جائے۔ کارپوریشن کی جانب سے کمپیوٹر ٹریننگ کورسس پہلے اردو اکیڈیمی کی جانب سے چلائے جاتے تھے۔ 2016 سے کمپیوٹر ٹریننگ کو کارپوریشن کے تحت کردیا گیا۔ جب سے اب تک پانچ سال کا لمبا عرصہ ہوگیا لیکن کارپوریشن کی جانب سے ایک تربیت یافتہ بیاچ بھی نہیں نکلا۔ ریاست میں 33 کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس ہیں تو 33 ہزار طلباء کمپیوٹر ٹریننگ کورسس کی تربیت سے محروم ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے ہر سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا جارہا ہے لیکن قرضہ جات جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ کارپوریشن ڈائرکٹر سے گذارش کی جاتی ہے کہ ہماری اس درخواست کو اقلیتی بہبود کے عہدیداروں، میناریٹی منسٹر اور فینانس منسٹر کے علم میں لایا جائے اور جلد سے جلد قرضہ جات کی اجرائی عمل میں لائی جائے اور کمپیوٹر ٹریننگ کورس کو شروع کیا جائے۔