مسلمان کو شکست دینے کے سی آر کا کاماریڈی سے مقابلہ، کانگریس حکومت میں مسلمانوں سے انصاف
حیدرآباد : 30 جنوری (سیاست نیوز) حکومت کے مشیر برائے اقلیت و دیگر طبقات محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ 10 برسوں تک اقلیتوں کو نظرانداز کرنے والے بی آر ایس قائدین شکست کے فوری بعد اچانک ہمدرد کے طور پر میدان میں آرہے ہیں۔ متحدہ آندھراپردیش اور تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود صرف کانگریس پارٹی سے ممکن رہی اور ریونت ریڈی حکومت نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے جو وعدے کئے ہیں ان پر عمل کیا جائے گا۔ محمد علی شبیر نے پارٹی ترجمان سید نظام الدین کے ہمراہ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈینٹ کے ٹی راما رائو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کے ذریعہ کانگریس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ وہ اپنے والد کے سی آر سے پوچھیں کہ انہوں نے ایک مسلمان کو ہرانے کے لیے کاماریڈی سے مقابلہ کیوں کیا تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر کو 119 اسمبلی حلقہ جات میں گجویل کے بعد کاماریڈی سے مقابلہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ وہ دراصل ایک مسلمان کو اسمبلی میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے گجویل کے علاوہ کاماریڈی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی مسلم دشمنی کا واضح ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سالہ دور حکومت میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ الیکشن کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود سے کاماریڈی اسمبلی حلقہ میں 26 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جو ایک لاکھ روپئے امدادی اسکیم کے نام پر رائے دہندوں میں تقسیم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں مسلم وزیر کی عدم موجودگی پر تنقید کرنے والے کے ٹی آر کو معلوم ہونا چاہئے کہ کانگریس کے تمام مسلم امیدواروں کو شکست ہوئی اور کاماریڈی سے انہیں نظام آباد منتقل کرنے کے لیے کے سی آر ذمہ دار ہیں۔ ریونت ریڈی نے کابینی رتبہ کے ساتھ اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کا مشیر برائے حکومت مقرر کیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ایک مسلمان کو مقرر کیا گیا۔ پبلک سرویش کمیشن میں عامر اللہ خان کو بحیثیت رکن شامل کیا گیا۔ ہائی کورٹ کے گورنمنٹ پلیڈرس میں مسلمانوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے 10 برسوں میں وائس چانسلرس کے عہدے پر ایک بھی مسلمان کو فائز نہیں کیا۔ پبلک سرویس کمیشن میں مسلم رکن کا تقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر اقلیتوں سے ہمدردی کے بجائے اپنا محاسبہ کریں کہ 10 برسوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں محمد علی شبیر نے کہا کہ کون کس کے تکڑے کرے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ کے سی آر نے اقتدار میں رہتے ہوئے جو کھیل کھیلا تھا آج وہی کھیل ان پر بھاری پڑسکتا ہے۔ کے سی آر کی قیادت سے ناراض ارکان اسمبلی خود ٹوٹ کر کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس رکن کونسل کے طور پر محمود علی کا انتخاب کانگریس کی دین ہے۔ 2013ء میں بی آر ایس کے پاس صرف 11 ارکان تھے لیکن کانگریس نے تائید کرتے ہوئے محمود علی کو منتخب ہونے میں مدد کی تھی۔ 1
پارٹی کی جانب سے اپنے طور پر ایک بھی اہم عہدے پر مسلمان کو فائز نہ کرنے کا ریکارڈ بی آر ایس کا ہے۔ 1