16 اگست سے مرحلہ واری اساس پر ہر پندرہ دن میں 10 ہزار چیکس جاری کئے جائیں گے
حیدرآباد /9 اگست ( سیاست نیوز ) صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحق نے اقلیتوں میں ایک لاکھ روپئے کی امدادی چیکس کی تقسیم کیلئے مزید 30 کروڑ روپئے کی اجرائی پر چیف منسٹر کے سی آر سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس حکومت اقلیتوں کی ترقی بھلائی ، خوشحالی اور بہبود کے معاملے میں عہد کی پابند ہے ۔ 50 کروڑ روپئے سے شروع ہوئی یہ اسکیم 400 کروڑ روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ جس سے 40 ہزار اقلیتوں کو فائدہ پہونچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ امتیاز اسحق نے کہا کہ یہ ہمیشہ جاری رہنے والی اسکیم ہے ۔ پہلے مرحلے میں 16 اگست کو 10 ہزار اقلیتوں میں ایک لاکھ روپئے کے امدادی چیکس تقسیم کئے جائیں گے ۔ اس کے 15 دن بعد مزید 10 ہزار اقلیتوں میں ایک لاکھ روپئے کے امدادی چیکس تقسیم کئے جائیںگے ۔ اس طرح ہر پندرہ دن میں 10 ہزار اقلیتوں میں ایک لاکھ روپئے کے امدادی چیکس تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزراء اور اعلی عہدیدار اس سلسلے میں متواتگر اجلاس طلب کر رہے ہیں اور اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہونچانے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ چیکس تقسیم کرنے کی 16 اگست تاریخ کو قطعیت دے دی گئی ہے ۔ افتتاحی تقریب کیلئے مقام کے تعین کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایک دو دن میں اس کو بھی قطعیت دے دی جائے گی ۔ صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے بتایا کہ پہلے اقلیتی خواتین میں 20 ہزار سلوائی مشین تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں مزید 5 ہزار اضافہ سلوائی مشینوں کی منظوری دی گئی ہے ۔ اس طرح اب ریاست بھر میں 25 ہزار سلوائی مشین تقسیم کئے جائیں گے ۔ امتیاز اسحاق نے کہا کہ وہ ریاست کے اقلیتوں کی طرف سے چیف منسٹر کے سی آر سے اظہار تشکر کرتے ہیں کہ ان کے صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن بننے کے بعد کارپوریشن کو بڑے پیمانے پر فنڈز جاری کئے گئے ہیں ۔ چیف منسٹر سے نمائندگی کرنے میں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور اور وزیر داخلہ محمد محمود علی نے بھی اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کانگریس کی جانب سے اقلیتی اسکیمات کو انتخابی حربہ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے 10 سال دور حکومت میں اقلیتوں کے فلاح و بہبود کیلئے جتنی رقم خرچ کی گئی ہے وہ کے سی آر کے دور حکومت میں صرف ایک سال میں خرچ کی گئی ہے ۔ آئندہ بھی ریاست میں بی آر ایس کی حکومت قائم ہوگی ۔ اقلیتوں کیلئے مزید نئی اسکیمات متعارف کرتے ہوئے ملک میں نئی تاریخ قائم کی جائے گی ۔ ن
