شادی مبارک کیلئے 650 کروڑ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے 130 کروڑ مختص، گزشتہ سال اسکیمات پر 1676 کروڑ خرچ کئے گئے
حیدرآباد 26 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال 2025-26 ء اقلیتی بہبود کے لئے بجٹ میں 3590 کروڑ 77 لاکھ 83 ہزار روپئے مختص کئے ہیں۔ اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے مطالبات زر میں بجٹ کی تفصیلات پیش کی گئیں جس کے مطابق اقلیتی بہبود کی مختلف اسکیمات کے لئے 2845.52 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ اقلیتی اداروں کے مصارف بشمول تنخواہوں کے لئے 745.25 کروڑ مختص کئے گئے۔ مالیاتی سال 2024-25 ء میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات کے لئے 2258.44 کروڑ مختص کئے گئے تھے جبکہ 2126.31 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ گزشتہ سال اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر جملہ خرچ 1676.13 کروڑ رہا۔ اِسی طرح اقلیتی اداروں کے اخراجات 744.15 کروڑ مختص کئے گئے تھے جس میں سے 657 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی اور 640 کروڑ خرچ کئے گئے۔ مطالبات زر کے تحت اقلیتی طلبہ کے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لئے 120 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ فیس باز ادائیگی اسکیم کے لئے 300 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ پری میٹرک اسکالرشپ کے لئے بجٹ میں 1.73 کروڑ مختص کئے گئے۔ بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لئے چیف منسٹرس اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے لئے بجٹ میں 130 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت اقلیتی طلبہ کو 20 لاکھ روپئے بطور اسکالرشپ اور یکطرفہ فضائی کرایہ کے طور پر 60 ہزار روپئے ادا کئے جاتے ہیں۔ تلنگانہ میناریٹیز اسٹڈی سرکل کے تحت اقلیتی طلبہ کو گروپ امتحانات کے علاوہ پولیس کانسٹبل، سب انسپکٹر، اسٹاف سلیکشن کمیشن، ریلوے رکروٹمنٹس، IELTS ، GRE اور دیگر امتحانات کی کوچنگ دی جاتی ہے۔ بجٹ میں اسٹڈی سرکل کے لئے 4 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی۔ حکومت کی نئی اسکیم راجیو یوا وکاسم میں اقلیتوں کی حصہ داری کے طور پر 840 کروڑ مختص کئے گئے۔ سیلف ایمپلائمنٹ کے تحت بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو کاروبار کے لئے 4 لاکھ روپئے کی امداد کی جائے گی۔ حکومت نے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کے لئے اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت اون یور آٹو اسکیم اور ڈرائیور امپاورمنٹ پروگرام پر عمل آوری کی جارہی ہے۔ ٹریننگ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم کے لئے فینانس کارپوریشن میں 30 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اقلیتوں کی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے 150 کروڑ مختص کئے گئے۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت غریب لڑکیوں کی شادی پر ایک لاکھ 116 روپئے کی امداد دی جاتی ہے۔ اسکیم کے آغاز سے آج تک 3.27 لاکھ خاندانوں کو 3348 کروڑ کی امداد دی گئی۔ بجٹ میں شادی مبارک اسکیم کے لئے 650 کروڑ مختص کئے گئے۔ اُردو گھر شادی خانوں کی تعمیر کے لئے 12 کروڑ، تلنگانہ حج کمیٹی کے لئے 4 کروڑ، دعوت افطار اور کرسمس تقاریب کے لئے 66 کروڑ مختص کئے گئے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے طور پر 120 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ استفادہ کنندگان کی تعداد 17 ہزار سے زائد ہے۔ حکومت نے مکہ مسجد کی ترقی کے لئے 8.48 کروڑ خرچ کئے ہیں۔ جامعہ نظامیہ آڈیٹوریم پر 14.65 کروڑ خرچ کئے گئے۔ تلنگانہ وقف ٹریبونل کے لئے 20 لاکھ، دائرۃ المعارف العثمانیہ کے لئے 3 کروڑ اور مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے مینٹیننس کے لئے 3.3 کروڑ کی گنجائش بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی ایم ایس بی پی اسکیم کے لئے ریاستی حکومت کی حصہ داری کے طور پر 100 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔1