عمارتوں کے کرایوں کی عدم ادائیگی ، 2 جون کو عمارتوں کو قفل ڈالنے مالکین کی دھمکی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔ 28۔مئی ۔حکومت تلنگانہ کی نگرانی میں تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا مستقبل خطرہ میں ہے!ٹمریزکے اسکول جو خانگی عمارتوں میں چلائے جاتے ہیں ان اسکولوں کی عمارتوں کے مالکین نے گذشتہ ایک سال سے کرایہ کی عدم ادائیگی اور ٹمریز کی جانب سے معاہدہ نہ کئے جانے کے سبب اپنی جائیدادوں کو مقفل کرنے کا فیصلہ کیاہے اور 2جون سے قبل کرایوں کے بقایا جات کی عدم اجرائی کی صورت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں عمارتوں کو مقفل کرنے پر غور کیا جا رہاہے۔ مالکین جائیداد کا کہناہے کہ ٹمریز کے ذمہ داروں کو اس سلسلہ میں بارہا متوجہ کروائے جانے کے باوجود کرایوں کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں مالکین جائیدادمشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیںاسی لئے وہ اب یہ سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکول سوسائیٹی کی تباہ کن صورتحال کے متعلق کہا مالکین جائیداد اور اس ادارہ میں خدمات انجام دینے والے عملہ کا کہنا ہے کہ ٹمریز میں مستقل سیکریٹری کی عدم موجودگی اور ایک جونیئر اسسٹنٹ کی نگرانی میں ادارہ چلانے کی کوشش کے نتیجہ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ان تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں70فیصد سے زیادہ کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تعلیمی سال 2023-24 کے دوران ریاست بھر میں چلائے جانے والے اقامتی اسکولوں اور جونیئر کالجس میں طلبہ کی قابل لحاظ تعداد ریکارڈ کی
گئی تھی لیکن تعلیمی سال 2024-25کے دوران مجموعی اعتبار سے ریاست بھر میں زائد از 60 ہزار طلبہ کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹمریز کے اداروںمیں تعلیمی سال 2023-24کے دوران مجموعی اعتبار سے 96ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کررہے تھے جن میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے علاوہ دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل تھے لیکن تعلیمی سال 2024-25 کے دوران طلبہ کی تعداد میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی اور مجموعی اعتبار سے طلبہ کی تعداد 38 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور اب کہا جا رہاہے کہ تعلیمی سال 2025-26 کے دوران طلبہ کی تعداد میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی کیونکہ اب ٹمریز کے عہدیداروں یا اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے عملہ کوبھی ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ اسکولوں اور جونیئر کالجس میں موجود عملہ کی نگرانی کے لئے کوئی ذمہ دار عہدیدارموجود نہیں ہے۔ ٹمریز سوسائیٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کے لئے قائم کئے گئے ان تعلیمی اداروں کی نگرانی کے لئے کیڈر آفیسر کو بطور سیکریٹری سوسائیٹی مقرر کرنا ہے لیکن گذشتہ طویل مدت سے ٹمریز کے سیکریٹری کے عہدہ پر انچارج سیکریٹری کے طور پر اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کو ذمہ داری دی گئی تھی اور جوائنٹ سیکریٹری ٹمریز کے عہدہ پر بھی کسی عہدیدار کی عدم موجودگی کے علاوہ محکمہ پولیس کے ایک جونیئر اسسٹنٹ کے حوالہ مکمل ٹمریز کی ذمہ داریاں کرنے کے نتیجہ میں قیام تلنگانہ کے بعد قائم کئے گئے ان اداروں کی تباہی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ان اداروں کے قیام کے لئے جو عمارتیں کرایہ پر حاصل کی گئی تھیں ان عمارتوں کے کرایہ کی عدم ادائیگی کا مسئلہ گذشتہ 10 برسوں میں دوسری مرتبہ منظر عام پر آیا ہے جبکہ ٹمریز میں ہونے والی بدعنوانیوں کی شکایات مسلسل منظر عام پر آتی رہی ہیں ۔ ٹمریز کے صدر دفتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں اور عملہ کا کہناہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران جب سے کوئی مستقل عہدیدار موجود نہیں ہے مسلسل بدعنوانیوں کی شکایات کی جا رہی ہیں لیکن کسی بھی گوشہ سے ان شکایات پر کاروائی نہیں کی جار ہی ہے بلکہ عملہ کی جانب سے کی جانے والی شکایات کو نظراندازکرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے یہ باور کروایا جارہاہے کہ ٹمریز کے اداروں میں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ ٹمریز تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے اداروں میں سب سے زیادہ بجٹ حاصل کرنے والا ادارہ ہے اور اس ادارہ میں کنٹراکٹس کی حوالگی اور معمولی مرمتی کاموں کے لئے لاکھوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن گذشتہ ایک برس سے کسی بھی کام کے لئے 5تا15 فیصد کمیشن کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور صدر دفتر ٹمریز میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی جانب سے متعلقہ عہدیداروں سے مسلسل شکایات کے باوجود محکمہ پولیس کے جونیئر اسسٹنٹ کے خلاف شکایات کے باوجود کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے کے بعد ملازمین نے اس سلسلہ میں راست ڈائریکٹر جنرل آف پولیس تلنگانہ کو یادداشت روانہ کرتے ہوئے مذکورہ ملازم کے خلاف کاروائی کی خواہش کی ہے اور مالکین جائیداد کا بھی کہناہے کہ وہ کرایہ کی عدم ادائیگی کے علاوہ ان کی عدم سنوائی کے سبب اسکولوں کو مقفل کرنے والے ہیں۔