اقلیتی اقامتی اسکولوں میں داخلوں کا 18 جنوری سے آغاز، آن لائین درخواستوں کا ادخال

   

مذہبی اور سماجی تنظیموں سے تعاون حاصل کرنے تفسیر اقبال کا فیصلہ
حیدرآباد ۔11۔فروری (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ کے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیمی سال 2025-26 کے داخلوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اقلیتی طلبہ کے زیادہ سے زیادہ داخلوں کو یقینی بنانے کیلئے مذہبی اور رضاکارانہ تنظیموں سے تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود تفسیر اقبال آئی پی ایس جو اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بھی ہیں، آج اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ ڈائرکٹر ا قلیتی بہبود یاسمین باشاہ آئی اے ایس ، چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ ، ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم ، پروفیسر ایس اے شکور ، ڈسٹرکٹ میناریٹیز ویلفیر آفیسر الیاس احمد کے علاوہ کرسچن فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اقامتی اسکولوں میں 18 جنوری سے داخلوں کا آغاز ہوگیا اور ٹمریز کی ویب سائیٹ پر آن لائین درخواستیں داخل کرنی ہوگی ۔ مسلم ، کرسچن ، پارسی ، جین اور بدھسٹ طبقات کے علاوہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور او سی طبقات کے طلبہ 205 اقامتی اسکولوں اور جونیئر کالجس میں داخلوں کیلئے درخواستیں دے سکتے ہیں۔ ٹمریز کے پانچ سنٹر آف ایکسلینس میں داخلوں کیلئے بھی درخواستیں دی جاسکتی ہیں ۔ چھٹویں تا آٹھویں جماعت کی مخلوعہ نشستوں پر بھی داخلے دیئے جائیں گے ۔ آن لائین درخواستیں 28 فروری تک داخل کی جاسکتی ہیں۔ نئے تعلیمی سال کیلئے پانچویں جماعت میں داخلے دیئے جائیں گے اور چھٹویں تا آٹھویں جماعت کی مخلوعہ نشستوں کو بھی پر کیا جائے گا ۔ آن لائین درخواستوں کے لئے ٹمریز کی ویب سائیٹ www.tgmreistelangana.cgg.gov.in سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود تفسیر اقبال نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ شہر اور اضلاع میں آئمہ اور خطیبوں سے ربط قائم کرتے ہوئے جمعہ کے موقع پر اقامتی اسکولوں میں داخلے کی اپیل کو یقینی بنائیں۔ ڈسٹرکٹ میناریٹیز ویلفیر آفیسرس اس سلسلہ میں متعلقہ اضلاع میں مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ربط قائم کریں گے ۔ اقامتی اسکولوں میں کارپوریٹ طرز کی مفت تعلیم کا انتظام ہے اور حکومت کی جانب سے ڈریس اور میٹریل مفت سربراہ کیا جاتا ہے۔ اقامتی اسکولوں میں دینی ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے نماز کی ادائیگی کا انتظام رہے گا۔ دینی تعلیم کے علاوہ اخلا قیات کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ تفصیلات اقبال نے اقلیتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا اقامتی اسکولوں میں داخلہ کرائیں تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل روشن ہوسکے۔1