حیدرآباد۔/14 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں ہیڈ ماسٹرس اور ٹیچرس کے تبادلوں پر حکم التواء جاری کردیا ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں تبادلوں کیلئے جن گائیڈ لائنس پر عمل کیا جارہا ہے وہ سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق رہنمایانہ خطوط سے مختلف ہیں۔ سوسائٹی کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ نے ہائی کورٹ میں ٹمریز کے گائیڈ لائنس کو چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس پی کارتک نے18 جولائی کو آئندہ سماعت مقرر کرتے ہوئے اس وقت تک تبادلوں کے عمل پر روک لگادی ہے۔ درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ 6 جولائی کو جاری کردہ گائیڈ لائنس اقامتی اسکولوں میں خدمات سے متعلق سرویس رولس کے خلاف ہیں۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے عدالت سے شکایت کی کہ نئے قواعد کے نتیجہ میں ہیڈ ماسٹرس اور ٹیچرس کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک ایمپلائمنٹ سرویس رولس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2022 میں احکامات جاری کئے گئے۔ سابق میں احکامات پر ہائی کورٹ نے حکم التواء جاری کیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں جاری کی گئی گائیڈ لائنس سرویس رولس کے خلاف ہیں۔ ہائی کورٹ نے سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 18 جولائی کو مقرر کی ہے۔ 1