پڑوسی ریاست میں آئمہ کیلئے 10 ہزار اعزازیہ ۔ اقلیتی بہبود کا بجٹ بھی تقریبا دوگنا
حیدرآباد19 مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ و آندھراپردیش کی حکومتوں میں مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور اقلیتی بہبود کے بجٹ معاملہ میں موازنہ کیا جائے تو آندھراپردیش حکومت اقلیتوں کی ہمدر د اور حکومت تلنگانہ سے زیادہ اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والی ثابت ہونے لگی ہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے آئمہ ومؤذنین کو جو اعزازیہ فراہم کیا جاتا ہے وہ 10ہزار آئمہ و مؤذنین کو فی کس ماہانہ 5ہزار روپئے ادا کئے جاتے ہیں جو کہ حکومت کی گرانٹ تلنگانہ وقف بورڈ کے ذریعہ جاری کی جاتی ہے۔ آندھراپردیش میں بھی آئمہ و مؤذنین کیلئے اعزازیہ کی اسکیم موجود ہے اور اس اسکیم کے تحت آندھراپردیش وقف بورڈ کے توسط سے چلاتی ہے اور وہاں 7ہزار آئمہ و مؤذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ وقف بورڈ کے توسط سے جاری کیا جاتا ہے لیکن آندھراپردیش میں جو اعزازیہ کی رقم ہے وہ آئمہ کیلئے 10ہزار اور مؤذنین کیلئے 5ہزار روپئے ماہانہ ہے ۔ عہدیدارو ںکے مطابق حکومت آندھراپردیش سے جاری ہونے والے اس اعزازیہ کے علاوہ حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے جن میں ’جگن انا شادی تحفہ‘ اسکیم کے علاوہ دیگر اسکیمات شامل ہیں۔دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو آندھراپردیش میں حکومت سے 4203کروڑ روپئے کی تخصیص محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے عمل میں لائی گئی لیکن تلنگانہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے محض 2200 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ انتخابات سے قبل آخری بجٹ میںآندھراپردیش حکومت نے اقلیتوں کی ترقی و ولاح و بہبود کیلئے جن منصوبوں کا اعلان کیا ہے وہ تلنگانہ سے کافی زیادہ ہیں۔ دونوں ریاستو ںمیں آئمہ و مؤذنین کے اعزازیہ کی اسکیم میں دونوں ریاستوں میں فرق کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ کے سرکردہ علماء و نمائندوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے کہ وہ آندھراپردیش کے طرز پر آئمہ کو ماہانہ 10ہزار روپئے کی اجرائی عمل میں لائے کیونکہ حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ حکومت مسلمانوں کو بھی دیگر طبقات کے مماثل سہولتوں کی فراہمی کے حق میں ہے لیکن تلنگانہ میں منادر میںبرسرکار عملہ کو سرکاری ملازمین کے مماثل تنخواہیں جاری کی جار ہی ہیں جبکہ آئمہ و مؤذنین کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے کشادہ قلبی کا مظاہرہ کرنے سے اجتناب کیا جارہا ہے۔م