اقلیتی بہبود میں نیا بحران، وقف بورڈ کے سی ای او طویل رخصت پر

   

عہدیداروں کی کمی،3 عہدیداروں کو اضافی ذمہ داریاں،وقف بورڈ کیلئے موزوں عہدیدار کی تلاش

حیدرآباد۔/14 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے ادارے عہدیداروں کی کمی کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے میں وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی طویل رخصت پر روانگی نے مزید بحران پیدا کردیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کیلئے کوئی بھی عہدیدار تیار نہیں ہے جس کے نتیجہ میں 3 عہدیداروں کو تمام اداروں کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ عبدالحمید جنہیں حکومت کے مسلسل دباؤ کے ذریعہ ریونیو ڈپارٹمنٹ سے ڈپوٹیشن پر اقلیتی بہبود منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ بورڈ کے حالات سے مایوس ہوکر دوبارہ اپنے محکمہ میں واپس جانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ عبدالحمید نے خرابی صحت کا عذر پیش کرتے ہوئے 4 مہینے کی طویل رخصت حاصل کرلی ہے جس کا آغاز پیر سے ہوگا۔ عبدالحمید کو رخصت حاصل کرنے سے روکنے کیلئے محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کافی مساعی کی لیکن وہ برقراری کیلئے تیار نہیں ہوئے۔ واضح رہے کہ محکمہ ریونیو میں ترقی حاصل کرتے ہوئے عبدالحمید جوائنٹ کلکٹر کے رتبہ پر پہنچ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ اس اہم عہدہ کے بجائے وقف بورڈ میں خدمات انجام دیں۔ اگرچہ انہوں نے طویل رخصت کی درخواست میں خرابی صحت کا حوالہ دیا لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق وہ بورڈ کی روز مرہ کی کارکردگی میں سیاسی قائدین اور بعض ارکان کے دباؤ کے سبب غیر جانبداری سے خدمات انجام دینے میں رکاوٹ محسوس کررہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ارکان روزانہ عبدالحمید کو اپنے مخصوص اداروں کے کاموں کی تکمیل کیلئے دباؤ بنارہے تھے جبکہ قانونی طور پر یہ کام ممکن نہیں تھا۔ وقف ایکٹ کے برخلاف کام کرنے کے دباؤ سے عاجز آکر عبدالحمید نے طویل رخصت حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اوقافی اداروں کی کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں عبدالحمید پر مختلف گوشوں سے دباؤ تھا اس کے علاوہ بعض ارکان وقف اراضیات کی لیز کے معاملات کی یکسوئی پر اصرار کررہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک رکن نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ وقف بورڈ کے رکن بننے کے بعد مقروض ہوچکے ہیں اور بورڈ میں ان کے کام مکمل نہ ہوں تو وہ مزید مقروض ہوجائیں گے۔ اپنے قرض کی ادائیگی کیلئے وقف معاملات کی پیروی کا سہارا لیا گیا۔ سیاسی قائدین اور بعض ارکان کے مسلسل دباؤ کے نتیجہ میں عبدالحمید روزانہ کے ضروری اُمور کی تکمیل میں دشواری محسوس کررہے تھے۔ وقف ایکٹ کے برخلاف کارروائی کے دباؤ سے عاجز آکر انہوں نے وقف بورڈ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسری طرف محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی کا معاملہ مزید سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے۔ حج ہاوز، اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن اور میناریٹیز اسٹڈی سرکل جیسے اداروں پر مستقل عہدیدار نہیں ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم ( آئی پی ایس ) اردو اکیڈیمی کے سکریٹری ڈائرکٹر اور ڈائرکٹر میناریٹیز اسٹڈی سرکل کی اضافی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ کو ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی کی اضافی ذمہ داری دی گئی۔ کرسچن فینانس کارپوریشن کی منیجنگ ڈائرکٹر کرانتی ویسلی کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کا اضافی عہدہ دیا گیا۔ اس طرح صرف تین عہدیدار تمام اقلیتی اداروں کے انچارج ہیں ۔ اب جبکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے طویل رخصت حاصل کرلی ہے ایسے میں حکومت کو اس عہدہ کیلئے موزوں عہدیدار کو تلاش کرنا ہوگا یا پھر موجودہ 2 عہدیداروں میں سے کسی کو اضافی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر مسلم عہدیدار کا ہونا ضروری ہے لہذا شاہنواز قاسم اور بی شفیع اللہ میں سے کسی ایک کو ایڈیشنل چارج دیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر محکمہ جات میں موجود اقلیتی عہدیدار اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدوں کیلئے بعض مسلم آئی اے ایس عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا لیکن انہوں نے صاف طور پر انکار کردیا۔