اقلیتی بہبود کا بجٹ کنٹراکٹر کی جیب میں، اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی

   

Ferty9 Clinic

آندھرائی کنٹراکٹر پر مہربانیاں، اقلیتی اداروں میںلاکھوں روپئے کے کاموں کا اسکام

حیدرآباد۔/6 اگسٹ، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کیلئے حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے اسمبلی اور اس کے باہر کئے جاتے ہیں اور اقلیتوں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کی تعلیمی اور معاشی ترقی پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ بجٹ کے خرچ کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کو چند مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپ، فیس بازادائیگی، اوورسیز اسکالر شپ اسکیم اور قرض کی اجرائی جیسی اسکیمات حتیٰ کہ غریب ائمہ و مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کیلئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے لیکن اقلیتی اداروں میں تعمیری، تزئین نو اور انفرااسٹرکچر سہولتوں کے نام پر کروڑہا روپئے کا فائدہ مخصوص کنٹراکٹرس کو پہنچایا جارہا ہے جن کی حکومت میں شامل افراد اور اہم عہدوں پر فائز شخصیتوں سے قربت ہے۔ ایک مخصوص کنٹراکٹر کو فائدہ پہنچانے کیلئے اقلیتی اداروں میں کئی کام نکالے جارہے ہیں حالانکہ تعمیری کام ہوں یا پھر کچھ اور کسی بھی بڑے کام کیلئے ٹنڈرس طلب کرنا عہدیداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی محکمہ اقلیتی بہبود سے عدم دلچسپی کا فائدہ اٹھاکر بعض عہدیدار من مانی کرتے ہوئے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے قریبی افراد کے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے اور وہاں کے معاملات پر کئی اقساط میں لکھا جاسکتا ہے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی میں سرکاری فنڈز کے استعمال پر کوئی نگرانی نہیں ہے اور کروڑہا روپئے کے کاموں کی تکمیل میں کمیشن کے حصول کا کلچر عام ہوچکا ہے۔ نہ صرف اقامتی اسکول سوسائٹی بلکہ دیگر اقلیتی اداروں جیسے اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن میں مختلف کاموں کا کنٹراکٹ ایک مخصوص شخص کو دیا جارہا ہے جس کا تعلق آندھرا سے بتایا جاتا ہے۔ حال ہی میں حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی میں لاکھوں روپئے کے کام اسی کنٹراکٹر کو دیئے گئے جو سب کنٹراکٹر کے طور پر عہدیداروں سے قربت رکھنے والے افراد کے نام پر بلز حاصل کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ غیر اقلیتی طبقہ کے کنٹراکٹر کو حکومت کے مشیر اور اقامتی اسکول سوسائٹی کے عہدیدار کی سرپرستی حاصل ہے۔ مختلف ایجنسیوں کے ناموں سے کاموں کو علحدہ طور پر تکمیل کے بلز داخل کئے جاتے ہیں۔ حج کمیٹی کے علاوہ اردو اکیڈیمی میں جو کام انجام دیئے گئے ان کی تفصیلات کو مخفی رکھا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قواعد کے برخلاف بعض تقررات بھی کئے گئے جس کے احکامات فائیلوں میں بند ہیں اور تقرر کردہ افراد کو تنخواہ بھی جاری کردی گئی۔ اقلیتی بہبود کے اداروں میں خدمات انجام دینے والے ماتحت عہدیدار اور ملازم خود کو بے بس تصور کررہے ہیں ان میں سے ایک عہدیدار نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کچھ یوں تبصرہ کیا کہ فلاں عہدیدار جہاں جہاں رہیں گے وہاں وہاں مخصوص کنٹراکٹر دکھائی دے گا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اقلیتی بہبود کے فنڈز کو طلبہ کی تعلیمی اسکیمات اور ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ پر خرچ کرنے کے بجائے لاکھوں روپئے تعیشات اور سہولتوں پر کئے جارہے ہیں۔ اقلیتی اداروں کی مالیاتی بے قاعدگیوں کی گرفت اس لئے بھی نہیں ہوپاتی کہ حکومت کو اداروں کی کارکردگی سے کوئی دلچسپی نہیں اور انٹرنل آڈٹ میں سب کچھ ٹھیک دکھایا جاتا ہے۔ حکومت بھلے ہی توجہ نہ دے لیکن مسلم تنظیموں، جہد کاروں اور ملت کا درد رکھنے والوں کو فوری متحرک ہونا چاہیئے۔