اقلیتی بہبود کی 26 اسکیمات کیلئے 1600 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص

,

   

٭ اقلیتی اداروں کے انتظامی مصارف پر 599 کروڑ کا خرچ
٭ وزیر اقلیتی بہبود نے اسمبلی میں مطالبات زر پیش کئے
٭ اقامتی اسکولوں اور شادی مبارک کیلئے زیادہ منظوری

حیدرآباد 9 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے لئے حکومت نے 2,200 کروڑ 33 لاکھ 67 ہزار بجٹ مختص کیا ہے جس میں فلاحی اسکیمات کے لئے 1600 کروڑ 35 لاکھ 65 ہزار روپئے مختص کئے گئے جبکہ انتظامی مصارف جس کے تحت اقلیتی اداروں کے مینٹیننس اور دیگر مصارف شامل ہیں۔ اُس کے لئے 599 کروڑ 98 لاکھ 2 ہزار روپئے مختص کئے گئے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں اقلیتی بہبود کے مطالبات زر کو پیش کیا جس میں مرکزی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے 67 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے مطابق 1993 ء میں محکمہ اقلیتی بہبود کا قیام عمل میں آیا، اُس وقت اقلیتی بہبود کا بجٹ 1.20 کروڑ تھا۔ مردم شماری 2011 ء کے مطابق تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی 50.05 لاکھ ہے۔ حکومت نے 2012 ء میں کمشنریٹ اقلیتی بہبود قائم کیا تاکہ اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کی جاسکے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اقلیتی بہبود کے بجٹ میں ہر سال اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتیں جو ریاست کی مجموعی آبادی کا 14.24 فیصد ہیں، اُن کے لئے 2014-15 ء میں 1030 کروڑ، 2015-16 ء میں 1130 کروڑ، 2016-17 ء میں 1204 کروڑ، 2017-18 ء میں 1249.49 کروڑ، 2018-19 ء میں 2 ہزار کروڑ، 2019-20 ء میں 1369.95 کروڑ، 2020-21 ء میں 1518.05 کروڑ اور 2022-23 ء میں 1728.71 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے مطابق حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لئے 204 اقامتی اسکولس قائم کئے جنھیں جونیر کالجس کی حیثیت سے ترقی دی گئی۔ 107 اسکولس بوائز اور 97 گرلز کے لئے ہیں۔ ان اسکولوں سے 130560 غریب طلبہ استفادہ کررہے ہیں جن میں 68480 لڑکے اور 62080 لڑکیاں ہیں۔ اقامتی اسکولوں کے لئے 7570 جائیدادیں منظور کی گئیں جن میں 6579 مستقل اور 991 آؤٹ سورسنگ کی بنیادوں پر ہیں۔ گزشتہ 7 برسوں میں اقامتی اسکولوں کے 5099 طلبہ نے مختلف مسابقتی امتحانات میں بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ بجٹ 2023-24 ء میں اقامتی اسکول سوسائٹی کے لئے 222.92 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لئے 565.74 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ اقلیتی طلبہ کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لئے 70.80 کروڑ مختص کئے گئے اور تاحال 13.8 لاکھ طلبہ نے اسکیم سے استفادہ کیا۔ فیس بازادائیگی اسکیم کے لئے 236 کروڑ مختص کئے گئے۔ اس اسکیم کے تحت انٹرمیڈیٹ تا پی جی کورسیس بشمول پیشہ وارانہ کورسیس ٹیوشن فیس ادا کی جاتی ہے۔ تاحال 9.3 لاکھ طلبہ اسکیم سے استفادہ کرچکے ہیں۔ پری میٹرک اسکالرشپ برائے اقلیتی طلبہ کے لئے بجٹ میں 1.73 کروڑ مختص کئے گئے۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کا 2015-16 ء میں آغاز ہوا جس کے تحت ہر منتخب امیدوار کو 20 لاکھ روپئے کی اسکالرشپ اور ایک طرف کا فضائی کرایہ 60 ہزار روپئے فراہم کیا جاتا ہے۔ اسکیم سے تاحال 2975 طلبہ نے استفادہ کیا۔ سال 2023-24 ء میں اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے لئے 118 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتی طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کے لئے 2015-16 ء میں میناریٹی اسٹڈی سرکل قائم کیا گیا۔ تاحال گروپ I، گروپ II، گروپ III، گروپ IV کے علاوہ پولیس کانسٹبلس، سب انسپکٹر اور ریلوے رکروٹمنٹ کے 9027 امیدواروں کو کوچنگ دی گئی۔ گزشتہ سال آئی اے ایس اداروں کے لئے 100 اقلیتی امیدواروں کو اسپانسر کیا گیا۔ اسٹڈی سرکل کے لئے 2023-24 ء بجٹ میں 2.5 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتوں کو ایس سی، ایس ٹی، بی سی کے مساوی خودروزگار کے لئے سبسیڈی پر مبنی قرض منظور کئے جارہے ہیں۔ سبسیڈی کو 50 سے بڑھاکر 80 فیصد کردیا گیا اور اسکیم کی لاگت 2 لاکھ سے بڑھاکر 10 لاکھ کردی گئی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی مذکورہ اسکیم کے لئے 2023-24 ء میں 150 کروڑ مختص کئے گئے۔ اون یور آٹو اسکیم کے تحت حیدرآباد میں 1744 آٹو رکشہ سبسیڈی و قرض منظور کئے گئے۔ 50 فیصد سبسیڈی فراہم کی گئی جس سے 1744 آٹو ڈرائیورس نے استفادہ کیا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کے لئے بجٹ میں 3.78 کروڑ مختص کئے گئے۔ حکومت نے شادی مبارک اسکیم کے لئے 450 کروڑ مختص کئے ہیں جس کے تحت تاحال 2.37 لاکھ لڑکیوں کی شادی کے لئے 2765 کروڑ منظور کئے گئے۔ اُردو اکیڈیمی اور اُردو گھر شادی خانہ کے لئے بجٹ میں 2.52 کروڑ مختص کئے گئے۔ تلنگانہ حج کمیٹی کو 2 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا۔ دعوت افطار اور کرسمس ڈنر کے لئے بجٹ میں 66 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ وقف بورڈ کے تحت ائمہ و مؤذنین کو اعزازیہ کے لئے بجٹ میں 68 کروڑ مختص کئے گئے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ انیس الغرباء کی تعمیر کے لئے 39 کروڑ منظور کئے گئے اور تعمیری کام 90 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ مکہ مسجد اور مرمت اور تزئین نو کے لئے 8.48 کروڑ منظور کئے گئے اور 90 فیصد کام مکمل ہوگیا۔ اسلامک کلچرل سنٹر کے لئے کوکہ پیٹ میں 10 ایکر اراضی مختص کی گئی جہاں 40 کروڑ کی لاگت سے اسلامک سنٹر کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اجمیر میں رباط کی تعمیر کیلئے اجمیر ترقیاتی اتھاریٹی کی منظوری کا انتظار ہے۔ سروے کمشنر وقف کیلئے بجٹ میں 18.38 لاکھ اور تلنگانہ وقف ٹریبونل کیلئے 14 لاکھ رقم مختص کی گئی۔ دائرۃ المعارف کیلئے 200 کروڑ اور مکہ مسجد و شاہی مسجد کی مرمت و دیکھ بھال کیلئے بجٹ میں 2.5 کروڑ فراہم کئے گئے۔ حکومت نے 26 مختلف اسکیمات کیلئے جملہ 1600 کروڑ 35 لاکھ 65 ہزار بجٹ میں فراہم کئے ہیں جبکہ 12 اقلیتی اداروں کے انتظامی مصارف کے تحت 599 کروڑ 98 لاکھ روپئے مختص کئے گئے۔ ر