من مانی فیصلے ، ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی کے عہدہ کا درجہ کم کرنے کی سازش
حیدرآباد۔5۔مارچ۔(سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کوئی بھی ہو بعض افراد اپنے رویہ اور چاپلوسی کے ذریعہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوہی جاتے ہیں۔ تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبودکا کوئی پرسان حال نہ ہونے کے نتیجہ میں محکمہ کے تحت چلائے جانے والے اداروں میں من مانی فیصلہ کئے جانے لگے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر سیکریٹری کے عہدہ کی اہمیت کو گھٹانے اور اسے ڈپٹی سیکریٹری عہدہ کے رینک سے کم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے تاکہ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کے بجائے اسے سرکاری ادارہ کے طور پر برقرار نہ رکھا جائے۔ اردو اکیڈیمی میں بدعنوانیوں کے سلسلہ میں کئی شکایات منظر عام پر آچکی ہیں لیکن گذشتہ 10 برسوں کے دوران کوئی تحقیقات یا کاروائی نہیں کی گئی اور اب اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے عہدہ پر موظف عہدیدار ‘ پروفیسر کے تقرر کی بھی گنجائش فراہم کی جاسکے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کا مقصد ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے عہدہ پر اپنے من پسند عہدیداروں کے تقرر کی راہ ہموار کرنا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی جانب سے جاری کاروائی میں حکومت کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر سیکریٹری کے عہدہ پر ڈپٹی سیکریٹری رینک کے عہدیدارکے لزوم کے سبب عہدیدار کی خدمات ضائع ہورہی ہیں اور اردو اکیڈیمی میں اردو سے واقف کوئی بھی موظف عہدیدار یا پروفیسر کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کے عہدیداروں کی عہدوں کے معیار کو گھٹانے کے لئے اس طرح کی منظم سازش کے متعلق بعض عہدیداروں کاکہناہے ریاست میں مسلم عہدیداروں کی قلت کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اور سابق میں بھی اردو اکیڈیمی میں خانگی لکچررکو اس اہم ترین ذمہ داری پر فائز کرتے ہوئے اکیڈیمی کو کافی نقصان پہنچایا جاچکا ہے اور اگرموظف عہدیداروں کو یہ ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ نہ کسی کو جوابدہ ہوں گے اور نہ ہی انہیں بدعنوانیوں کی صورت میں حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی کاروائی کا خوف ہوگا۔تلنگانہ میں ریاستی اردو اکیڈیمی کے ڈائریکٹر سیکریٹری کے عہدہ کو پامال کرنے کی روایت ایک خانگی غیر اردو داں لکچرر کی خدمات کے حصول سے شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اردو اکیڈیمی میں اس عہدہ کو محکمہ اقلیتی بہبود میں کوئی اہمیت ہی نہیں دی جا رہی تھی اور اب تو اکیڈیمی کے قوانین میں ترمیم کے ذریعہ ڈائریکٹر سیکریٹری کے عہدہ پر موظف عہدیدار یا پروفیسر کی خدمات کے حصول کی سازش کی جا رہی ہے تاکہ وہ کسی کو جواب دہ نہ رہے اور نہ ہی اسے بدعنوانیوں کی صورت میں ملازمت سے برطرفی کا کوئی خوف رہے۔3