اقلیتی فینانس کارپوریشن سے ہر سال دو لاکھ سلائی مشینوں کی تقسیم

   

ونپرتی میں آج چیف منسٹر نئی اسکیمات کا اعلان کریں گے، صدرنشین کارپوریشن عبیداللہ کوتوال کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 28 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی 2 مارچ کو ونپرتی میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے غریب اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم کی اسکیم کا افتتاح کریں گے اور مالی امداد سے متعلق دو نئی اسکیمات کا اعلان کریں گے ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین محمد عبیداللہ کوتوال نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے آئندہ چار برسوں کیلئے اقلیتوں کی معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات کو منظوری دی ہے۔ سلائی مشینوں کی تقسیم کے علاوہ چیف منسٹر خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق دو نئی اسکیمات کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے قیام کے اغراض و مقاصد میں غریب مسلم خاندانوں کی غربت دور کرنا اور انہیں سبسیڈی پر مبنی اسکیمات سے وابستہ کرتے ہوئے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ کارپوریشن کے ذریعہ روزگار پر مبنی کورسس تربیت دی جاتی ہے۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد غریب مسلم خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا جس کیلئے ریاست بھر میں 2.5 لاکھ درخواستیں داخل کی گئیں جن کی جانچ کا کام جاری ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تمام مستحق غریب خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم کا مشورہ دیا ہے تاکہ کوئی بھی خاندان محروم نہ رہے۔ پہلے مرحلہ میں 40,000 سلائی مشینوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر 2 مارچ کو ونپرتی کے دورہ کے موقع پر سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائیں گے ۔ ایسے اضلاع جہاں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ نہیں ہے، وہاں 10490 سلائی مشین تقسیم کئے جائیں گے۔ باقی اضلاع میں 7 مارچ کے بعد مشینوں کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور بے سہارا خواتین کو روزگار سے وابستہ کرنے کیلئے حکومت نے اسکیم تیار ہے جس کا چیف منسٹر ونپرتی میں اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے کئی ذیلی طبقات ایسے ہیں جو مختلف پیشوں سے وابستہ ہیں۔ ایسے طبقات کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ سبسیڈی اور رہنمائی فراہم کرنے کی اسکیم کا چیف منسٹر ونپرتی میں اعلان کریں گے۔ عبید اللہ کوتوال نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں صرف انتخابات سے عین قبل اسکیمات پر عمل کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ 9 سال تک کے سی آر حکومت نے اقلیتوں کی ترقی کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 4 برسوں تک اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات پر عمل آوری کا منصوبہ ہے۔ ہر سال دو لاکھ سلائی مشین مرحلہ وار انداز میں تقسیم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کے ذریعہ تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ذیلی طبقات جیسے فقیر ، دودیکلا اور دیگر طبقات کی معاشی ترقی کیلئے اسکیم تیار کی گئی ہے۔ اضلاع میں یہ ذیلی طبقات کی آبادی کافی کم ہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ فینانس کارپوریشن کی اسکیمات سے استفادہ کریں۔1