سبکدوش کی تقریب میں زبانی احکامات پر دوسرے ہی دن سے خدمات کی انجام دہی!
حیدرآباد۔5۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن بھی وظیفہ پر سبکدوش ہونے والوں کی بازآبادکاری کے مرکز میں تبدیل ہونے جا رہاہے!کارپوریشن میں وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد خدمات کی انجام دہی کے لئے باضابطہ تحریری ہدایات یا احکامات بھی درکار نہیں ہیں بلکہ وظیفہ پر سبکدوشی کے دوسرے ہی دن خدمات سے رجوع ہونے کے زبانی احکام پر محترمہ پرسیس حسب معمول خدمات انجام دے رہی ہیں۔31 اگسٹ کو سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ جو کہ نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے عہدہ کی زائد ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں نے حج ہاؤز میں منعقدہ محترمہ پرسیس کی وظیفہ پر سبکدوشی کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد ان کی کارپوریشن سے وداعی پر مبارکباد پیش کی لیکن ساتھ ہی دوسرے دن سے محترمہ پرسیس معمول کے مطابق اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی کے باوجود دفترپہنچی اور دریافت کرنے پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ‘ نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر کارپوریشن جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے انہیں معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں اداکرنے کی خواہش کی جس پر وہ دفتر میں معمول کی فائیلس کی تنقیح کر رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے صدرنشین کارپوریشن جناب عبید اللہ کوتوال سے جب اس معاملہ میں دریافت تو انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ونائب صدرنشین کارپوریشن نے ’’بورڈ‘‘ کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے محترمہ کی خدمات میں توسیع کو منظوری دیتے ہوئے سفارش انہیں روانہ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔حکومت تلنگانہ نے سال گذشتہ ایک پالیسی ساز فیصلہ لیتے ہوئے وظیفہ پر سبکدوش عہدیداروں کی خدمات میں توسیع نہ دینے کے علاوہ ان کی خدمات حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں بالخصوص ’’ٹمریز‘‘ میں اس پالیسی کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور اب تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں بھی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد بھی خدمات کے حصول کے لئے ’’زبانی ‘‘ احکام کی بنیاد پر عہدیداروں کی خدمات میں توسیع کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ مجموعی اعتبار سے غیر قانونی ہونے کے علاوہ حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔محکمہ فینانس نے 12جولائی 2026 کو جاری کئے گئے جی او آرٹی نمبر1175 میں واضح کیا کہ کسی بھی عہدیدار کی خدمات کو دوبارہ حاصل کرنے سے قبل حکومت سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔3