٭ دلت نوجوانوں کو صرف ایک ضلع میں 769گاڑیوں کی منظوری
٭ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی تین اہم اسکیمات بھی برسوںسے ٹھپ
٭ حکومت کی مسلسل بے اعتنائی ۔ تلنگانہ کی اقلیتیں اچھے دن کی منتظر
حیدرآباد 24 نومبر (سیاست نیوز) علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئی ریاست تمام طبقات کی بھلائی و خوشحالی کی ضمانت رہیگی۔ نئی ریاست کو تشکیل پائے 8 سال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے لیکن ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات حکومت کی اسکیمات سے بلاتاخیر و بلاوقفہ استفادہ کررہے ہیں لیکن اقلیتی طبقات کے اچھے دنوں کا آج تک آغاز نہیں ہوا۔ ٹی آر ایس حکومت نے غریب اقلیتی خاندان کی معاشی پسماندگی دور کرنے کیلئے بینک سے کسی تعلق کے بغیر راست قرض کی اجرائی کا اعلان کیا تاکہ اقلیتی نوجوان چھوٹے کاروبار کا آغاز کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں۔ غریب خاندانوں کو خود مکتفی بنانے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی 3 اہم اسکیمات حکومت کی عدم توجہ کے نتیجہ میں گزشتہ چند برسوں سے ٹھپ ہوچکی ہیں۔ مالیاتی امداد کے علاوہ آٹو اور کار کی فراہمی سے متعلق اسکیمات پر عمل کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ ہر سال حکومت بجٹ میں اعلان کرتی ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ مالی اعانت اسکیم کے علاوہ اون یور آٹو اور اون یور کار اسکیمات پر عمل کیا جائے گا لیکن مالیاتی سال گزرنے تک اسکیمات کیلئے بجٹ جاری نہیں کیا جاتا۔ حکومت کو دلتوں اور قبائل سے کچھ زیادہ ہی ہمدردی ہے۔ وہ اِس لئے کہ یہ دونوں طبقات ووٹ بینک کی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی بھی پارٹی کو کامیابی کیلئے اِن کی تائید حاصل کرنا ضروری ہے۔ حکومت نے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا جس کے تحت غریب دلت خاندانوں کو 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اِسی طرح آئندہ عام انتخابات کو دیکھتے ہوئے قبائل کے لئے گریجن بندھو اسکیم کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ دلت بندھو اسکیم کے تحت استفادہ کنندگان کو گاڑیاں اور دیگر زرعی آلات فراہم کئے جاتے ہیں اور صرف ایک ضلع کریم نگر میں اِس اسکیم کے تحت 769 گاڑیاں ایک دن میں جاری کی گئیں۔ ریاستی سطح پر ایس سی ایس ٹی طبقات کے غریبوں کو گاڑیوں کی اجرائی کے اعداد و شمار کو مخفی رکھا گیا ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی طرح ایس سی، ایس ٹی اور کرسچن کارپوریشنوں کی جانب سے اون یور کار اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ اقلیتوں کیلئے خود روزگار سے متعلق اسکیمات کا جائزہ لیں تو مایوسی ہاتھ لگے گی۔ 2015-16 ء اور 2018-19 ء کے درمیان اون یور آٹو اسکیم پر عمل آوری کی گئی جس کے تحت 1744 آٹو رکشا جاری کئے گئے اور استفادہ کنندگان پر 12.74 کروڑ خرچ کئے گئے۔ گزشتہ 3 برسوں سے اون یور آٹو اسکیم پر عمل آوری نہیں کی گئی جس کیلئے غریب اقلیتی امیدوار کارپوریشن کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ معاشی اسکیم کے تحت ڈرائیور امپاورمنٹ پروگرام پر عمل کا اعلان کیا گیا جس کے تحت 2018-19 ء سے عمل آوری شروع ہوئی اور آخری مرتبہ 2020-21 ء میں اقلیتی امیدواروں کو کار حوالے کی گئی۔ 3 برسوں میں جملہ 690 موٹر کار خود روزگار اسکیم کے تحت جاری کی گئیں جس پر 31 کروڑ کا خرچ آیا ہے۔ 2018-19 ء میں 342، 2019-20 ء میں 67 اور 2020-21 ء میں 281 گاڑیاں حوالے کی گئیں۔ اِسی طرح 2015-16 ء میں 652 ، 2016-17 ء میں 1064، 2017-18 ء میں 25 اور 2018-19 ء میں محض 3 آٹو جاری کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے حکام کا ماننا ہے کہ بجٹ کی بروقت عدم اجرائی کے نتیجہ میں آٹو اور کار کی اسکیم تعطل کا شکار ہے۔ حکام اور عہدیداروں کی جانب سے نت نئی وجوہات بیان کرتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ حکومت کا رویہ انتہائی لاپرواہی والا ہے اور ان سے انصاف نہیںکیا جا رہا ہے ۔ر