اقلیت دشمنی ‘حکومت خاموشی توڑے

   

Ferty9 Clinic

آج دل بیقرار سا کیوں ہے
تیرا غم ہے تو بار سا کیوں ہے
ثہندوستان بھر میں ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جو صرف اور صرف اقلیت دشمنی پر مشتمل ہیں۔ کہیںکسی کی عبادتگاہ کو نقصان پہونچایا جا رہا ہے تو کہیںکسی کی عبادت میںخلل ڈالا جا رہا ہے ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ باضابطہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالینے اور ان کی نسل کشی کے اعلانات بھی کئے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف خون کی ہولی کھیلنے کیلئے اکسایا اور ورغلایا جا رہا ہے ۔ اقلیتی طبقات کے عیدوں اور تہواروں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے جا رہے ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی عام بات ہوگئی ہے ۔ ہر کوئی اس معاملے میں دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک اشتعال انگیز بیانات دئے جا رہے ہیں۔ سوشیل میڈیا میںاس سب کے ویڈیوز بھی وائرل ہو رہے ہیں لیکن حیرت اورا فسوس کی بات یہ ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس معاملے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہیںاور اپنی خاموشی کے ذریعہ ان جنون پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ اترکھنڈ کے ہردوار ہوئے اجلاس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کہی گئی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالینے کی ہندو نوجوانوںکوترغیب دی گئی ہے ۔ اس کے ویڈیو نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں وائرل ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی مذمت ہو رہی ہے لیکن اترکھنڈ کی ناکارہ پولیس ابھی تک محض تحقیقات میں مصروف ہونے کا عذر پیش کر رہی ہے ۔ سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ابھی تک ایف آئی آر میں صرف ایک نام درج کیا گیا تھا جبکہ مزید دو ناموں کو بعد میںشامل کیا گیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک کے بعد ایک کئی مقررین نے ہتھیار اٹھانے کی بات کہی اور مسلمانوں کے قتل عام کیلئے ورغلایا اس کے باوجود پولیس ابھی تحقیقات میںمصروف ہونے کا دعوی کرتی ہے ۔ یہی وہ طریقہ کار ہے جس کے نتیجہ میں جنونیوں کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور وہ ملک کے قانون سے بھی کھلواڑ کرنے لگے ہیں۔ پولیس کی اسی پشت پناہی اور بالواسطہ مدد نے ان عناصر کو مزید بڑھاوا دیا ہے ۔
بات صرف اترکھنڈ تک محدود نہیں ہے ۔ ہر ریاست میں ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جہاں نوجوانوں کو ورغلا کر ان کا استحصال کرتے ہوئے اقلیتوں کے خلاف اکسایا جا رہا ہے ۔ سماج میں نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ تشدد کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ۔ اس ساری صورتحال نے ملک کے عام شہری کو اور قانون کی پابندی کرنے والوںکو متفکر کردیا ہے ۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا حکومتیں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا بھی چاہتی ہیں یا نہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ہی ہیں جو ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کر رہی ہیں۔ سماج کے امن و آہنگی کو داؤ پر لگاتے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹے جا رہے ہیں۔ ہندوستان میں جس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں ان کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر میں ملک کی رسوائی اور بدنامی ہو رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان عناصر کے ساتھ حکومتوں کو بھی ملک کے نام کی بھی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ۔ اقلیتوں کے خلاف حکومتیں بھی امتیازی رویہ اختیار کرچکی ہیں۔ معمولی باتوں پر اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو انتہائی سنگین بلکہ غداری کے مقدمات میںماخوذ کرتے ہوئے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور جو لوگ اقلیتوں کے قتل عام کیلئے ورغلاتے ہیں اور عیسائیوں کی عبادتگاہوںکو تہس نہس کردیتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کے معاملے میںتذبذب کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔
مرکزی حکومت ہو کہ ریاستی حکومتیں ہوں انہیںاپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے حرکت میں آنا چاہئے ۔ طویل خاموشی سے فرقہ پرستوں اور جنونیوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے ۔ اس کو بہتر رکھنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ انہیں ادنی سے سیاسی مفادات کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی اجازت نہیںدینی چاہئے ۔ جو عناصر سماج میں نفرت کو ہوا دے رہے ہیں ان کی سیاسی وابستگی کا لحاظ کئے بغیر ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف ان عناصر کی بلکہ ان جیسے دوسرے کئی گوشوں کی حوصلہ شکنی ہو اور ملک کا امن متاثر ہونے نہ پائے ۔