اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے ہندوستانی الزامات مسترد: پاکستان

   

نیویارک : پاکستان نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ہندوستانی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک ایسا ملک جو خود دہشت گردی کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور جس نے اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کر رکھا ہے وہ دوسروں پر دہشت گردی کے الزامات عاید کر رہا ہے۔ پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی خارجہ سکریٹری تنمایا لال کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ ملک دہشت گردی پر لیکچر دے رہا ہے جبکہ یہ خود دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ہے اور عالمی سطح پر قاتلانہ مہم چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کی ہندوستانی سرپرستی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو پاکستان بھر میں شہریوں اور فوجی اہداف کیخلاف متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ جبکہ ایک حاضر سروس ہندوستانی بحریہ کے افسر اور را کے آپریٹو کلبھوشن یادو کی گرفتاری اور سزا پاکستان کیخلاف ہندوستان کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ناقابل تردید ثبوت ہے، جس میں پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہیں۔ اب ہندوستانی دہشت گرد فرنچائز شمالی امریکہ کی سرزمین پر سیاسی مخالفین کے قتل اور اقدام قتل کی کوششوں کے ساتھ عالمی سطح پر چلی گئی ہے۔
ہندوستان کو اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ختم اور کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرنا چاہیے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔