نئی دہلی/نیویارک: غزہ میں جاری تنازعہ اور امریکی ویٹو کے بعد ہندوستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کیلئے فلسطین کی کوشش پر دوبارہ غور کیا جائے گا اور دیگر اراکین اس کی حمایت کریں گے ۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے ویٹو کے استعمال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بیان میں کہا کہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں رکنیت کیلئے فلسطین کی درخواست کو مذکورہ ویٹو کی وجہ سے سلامتی کونسل نے منظور نہیں کیا تھا۔ میں یہاں سب سے پہلے یہ کہنا چاہوں گی کہ ہندوستان کے دیرینہ موقف کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ مناسب وقت پر اس پر نظر ثانی کی جائے گی اور اقوام متحدہ کا رکن بننے کیلئے فلسطین کی کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 18 اپریل کو اقوام متحدہ کی رکنیت کیلئے فلسطین کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ پی ۔ 5 کے رکن امریکہ نے اس درخواست کو ویٹو کر دیا۔ 15 رکنی سلامتی کونسل نے ایک مسودہ قرارداد پر ووٹ دیا جس میں 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو سفارش کی گئی تھی کہ ریاست فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت میں شامل کیا جائے ۔اس قرار داد کے حق میں 12 ووٹ پڑے جب کہ سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ امریکا نے اسے ویٹو کر دیا۔ کونسل کے کم از کم نو اراکین کو مسودہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کی ضرورت تھی۔ کمبوج نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دو ریاستی حل کی حمایت کیلئے پرعزم ہے جہاں فلسطینی عوام اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے محفوظ سرحدوں کے اندر ایک آزاد ملک میں آزادانہ طور پر رہ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے ہندوستان تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ براہ راست امن مذاکرات کی جلد بحالی کے لیے سازگار حالات کو فروغ دیں۔
غزہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کمبوج نے کہا کہ اس سے انسانی بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اس سے خطے اور اس سے باہر عدم استحکام میں اضافے کا اندیسہ بھی پیدا ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے غزہ تنازعہ پر ہندوستان کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری جانوں کا اتلاف ہوا ہے ، خاص طور پر خواتین اور بچوں کا، اور ایک انسانی بحران پیدا ہوا ہے ، جو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے ۔ہندوستان تنازع میں شہریوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتا ہے ۔