ایک چائے فروش سمیت مختلف افراد سے پولیس کی پوچھ تاچھ جاری
نئی دہلی۔15؍نومبر ( ایجنسیز )دہلی پولیس نے ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی کے دو ڈاکٹروں سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے جو لال قلعہ کے قریب دھماکہ سے پھٹنے والی کار کے ڈرائیور ڈاکٹر عمر نبی کے جاننے والے تھے۔ پولیس نے کئی افراد سے پوچھ تاچھ کی ہے جن میں ایک چائے فروش بھی شامل ہے جس کے اسٹال پر عمر نے مختصر قیام کیا تھا اور ایک مسجد کا دورہ بھی کیا جہاں اس نے دھماکے کے دن نماز ادا کی۔حکام نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں جمعہ کی رات دہلی پولیس کے اسپیشل سیل اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی ٹیم کے ذریعہ ہریانہ کے دھوج، نوح اور ملحقہ علاقوں میں کئے گئے دھاوںکے دوران کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے الفلاح یونیورسٹی کے دو ڈاکٹروں محمد اور مستقیم کو نوح سے حراست میں لیا۔ یہ دونوں مبینہ طور پر ڈاکٹر مزمل گنائی سے رابطے میں تھے جنہیں وائٹ کالر ٹیرر ماڈیول کی وسیع تر تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر عمر نبی کے قریبی دوست بھی تھے۔ابتدائی پوچھ تاچھ سے پتہ چلا ہے کہ حراست میں لیے گئے ڈاکٹروں میں سے ایک دھماکہ کے دن دہلی میں تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انٹرویو کیلئے قومی دارالحکومت آئے تھے۔