اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد گروپس القاعدہ اور داعش طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں قدم جما رہے ہیں اور بیرونی دنیا کے لیے ممکنہ طور پر خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1526 اور 2253 قرارداد کے تحت قائم کردہ تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 30ویں رپورٹ میں القاعدہ، داعش اور افغانستان سمیت پورے خطے میں دیگر دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ القاعدہ اور داعش کا خطرہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں اور پڑوسی ممالک میں زیادہ ہے تاہم یہ دونوں دہشت گرد گروہ تنازعات سے محفوظ علاقوں میں بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اس رپورٹ میں دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا لیکن طالبان کے قبضے کے پیش نظر اس رپورٹ میں افغانستان خصوصی دلچسپی کا حامل رہا ہے جو داعش کے سب سے زیادہ فروغ پزیر نیٹ ورکس اور القاعدہ کی میزبانی کرتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے، وہاں مقیم دہشت گرد گروہ طالبان کی عسکری فتح کو پڑوسی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں پروپیگنڈے کے لیے ایک حوصلہ افزا عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں۔القاعدہ اور داعش کے سبب بین الاقوامی امن کے لیے مختلف سطح کے خطرات لاحق ہیں۔