نئی دہلی: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے مسجد کو ہٹانے کے 2017 کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو جگہ خالی کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو مسجد کے لیے دوسری جگہ پر زمین کی مانگ کے لیے ریاستی حکومت کے سامنے اپنا کیس پیش کرنے کی اجازت دی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے عدالت کے احاطے میں واقع مسجد کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔وقف مسجد ہائی کورٹ اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس ایم آر شاہ اور سی ٹی روی کمار کی بنچ نے عرضی گزاروں کو مسجد کو ہٹانے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا اور کہا کہ اگر آج سے تین ماہ کے اندر اندر اگر تعمیرات نہ ہٹائی گئیں تو انہیں ہٹانے یا گرانے کا راستہ ہائی کورٹ سمیت حکام کے سامنے ہوگا۔ بنچ نے عرضی گزاروں کو قریب کے علاقے میں متبادل اراضی کے الاٹمنٹ کے لیے اتر پردیش حکومت سے نمائندگی کرنے کی بھی اجازت دی۔سپریم کورٹ کے بنچ نے یہ حکم اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا کہ مسجد سرکاری لیز پر دی گئی زمین پر واقع ہے اور گرانٹ کو 2002 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔