امتحانات کے التواء سے حکومت کا نہیں بلکہنوجوانوں کا نقصان: سیتکا

   

سیاسی بیروزگار اپنا رویہ ترک کریں، گذشتہ دس برسوں میں تقررات نظرانداز
حیدرآباد۔/14 جولائی، ( سیاست نیوز) وزیر بہبودی خواتین و اطفال ڈی سیتکا نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ بیروزگار نوجوانوں اور طلبہ کو مشتعل کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کرنی چاہتی ہے۔ سیتکا نے بیروزگار نوجوانوں اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں میں بی آر ایس حکومت نے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات پر کوئی توجہ نہیں کی ایک بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اب جبکہ کانگریس حکومت ہزاروں جائیدادوں پر تقررات کررہی ہے ایسے میں طلبہ کو گمراہ کرتے ہوئے امتحانات کے التواء کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دراصل تقررات کے خلاف ہے تاکہ نوجوان اپنے حق سے محروم رہیں۔ سیتکا نے کہا کہ امتحانات کے التواء سے حکومت کا کوئی نقصان نہیں جبکہ طلبہ اور نوجوانوں کو بھاری نقصان ہوگا۔ طلبہ نے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے جو کوچنگ حاصل کی ہے وہ ضائع ہوجائے گی اور عمر کی حد میں جو اضافہ کیا گیا وہ ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی محکمہ جات میں عدم تقررات کے سبب کارکردگی متاثر ہوئی ہے لہذا حکومت جنگی خطوط پر محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے حق میں ہے۔ سیتکا نے کہا کہ امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد کئے جائیں گے۔ بعض طلبہ کی جانب سے التواء کے مطالبہ کو غیردانشمندانہ قرار دیتے ہوئے ریاستی وزیر نے کہا کہ التواء سے طلبہ برادری کا نقصان ہوگا۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ حکومت ٹیچرس کے علاوہ سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کررہی ہے۔ طلبہ کو جان لینا چاہیئے کہ تقررات کا یہ عمل یہیں پرختم نہیں ہوگا بلکہ آئندہ مزید نوٹیفکیشن جاری کئے جائیں گے لہذا امیدواروںکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیتکا نے بتایا کہ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں چیف منسٹر ریونت ریڈی جاب کیلنڈر جاری کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی بیروزگار نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور کررہے ہیں۔ سیاسی بیروزگاروں کو اپنے رویہ کو ترک کرنا چاہیئے۔ گذشتہ دس برسوں میں تقررات کو نظرانداز کرنے والے آج طلبہ اور نوجوانوں سے جھوٹی ہمدردی کررہے ہیں۔ سیتکا نے کہا کہ گروپ I اور ڈی ایس سی کے انعقاد کا سہرا کانگریس پارٹی کے سر ہے جبکہ بی آر ایس دور حکومت میں امتحانی پرچہ جات کا افشاء معمول بن چکا تھا۔1