امتحانات کے بغیر طلبہ کو پروموٹ کرنے کی تجویز کی مخالفت

   


اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی حکومت سے نمائندگی، تعلیمی معیار متاثر ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد: جاریہ تعلیمی سال تعلیمی اداروں کی کشادگی کے سلسلہ میں حکومت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ تاہم محکمہ تعلیمات کی جانب سے حکومت کو بعض تجاویز پیش کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ تعلیم نے چھٹویں جماعت سے باقاعدہ کلاسس کے آغاز کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ کالجس میں کلاسس کے آغاز کے امکانات ظاہر کئے گئے ۔ حکومت کی جانب سے قطعی فیصلہ سے قبل اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے کلاسس کے بغیر طلبہ کو پروموٹ کرنے کی مخالفت کی ہے۔ مختلف گوشوں میں یہ اطلاعات گشت کر رہی ہے کہ حکومت پانچویں جماعت تک تمام طلبہ کو پروموٹ کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔ سرکاری سطح پر اگرچہ اس سلسلہ میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی لیکن اسکولوں نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کے بغیر پروموٹ کرنے سے آئندہ کی کلاسس میں معیار تعلیم پر اثر پڑے گا۔ امتحانات کے بغیر طلبہ کو پروموٹ کرنے سے مسابقت کا جذبہ ختم ہوجائے گا۔ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کا کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ماہرین تعلیم سے مشاورت کرے ۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کو پروموٹ کرنے سے ایسے طلبہ جو محنت اور مشقت کے عادی ہوتے ہیں ، ان کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ گزشتہ سال کی صورتحال مختلف تھی لیکن جاریہ تعلیمی سال طلبہ کو سالانہ امتحانات کیلئے تیاری کا ابھی وقت ہے۔ امتحانات میں کسی قدر تاخیر کرتے ہوئے جنوری سے طلبہ کو باقاعدہ کلاسس میں تعلیم دی جاسکتی ہے۔ اسوسی ایشن نے تجویز پیش کی کہ نصاب میں کمی کے ذریعہ طلبہ کا سالانہ امتحان منعقد کیا جائے ۔ تلنگانہ کے مسلمہ اسکولوں کی اسوسی ایشن نے کہا کہ نرسی تا بارھویں کلاسس کیلئے باقاعدہ تعلیم کا اسکولوں میں آغاز کیا جانا چاہئے۔ کم از کم 100 دن تک اسکول کلاسس کے ذریعہ طلبہ کو نصاب سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے ۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ امتحان کے بغیر پروموٹ کرنے سے تعلیمی شعبہ کو فائدہ سے زیادہ نقصان ہوگا۔ طلبہ میں مسابقت کا جذبہ کم ہوگا اور ایسے طلبہ جو تعلیم میں کمزور ہیں، وہ دوسروں سے برابری کرلیں گے۔