امجد اللہ خان خالد کو ایم ایل اے منتخب کرنے پر مسلمانوں کیلئے انقلاب برپا کرنیکا عزم

   

یاقوت پورہ حلقہ اسمبلی کے امیدوار کا مختلف علاقوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب
حیدرآباد 12 نومبر (پریس نوٹ) دبیرپورہ دروازہ پر منعقدہ ایک کثیر انتخابی جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے ایم بی ٹی امیدوار جناب امجد اللہ خان خالد نے اعلان کیاکہ انتخابات میں منتخب ہونے کے بعد مرحوم غازی ملت الحاج محمد امان اللہ خان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے تلنگانہ ریاست کے ایک کروڑ مسلمانوں کی آواز بن کر ایوان اسمبلی میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، ظلم و زیادتی، جمہوری حقوق کی پامالی، بیروزگاری اور دیگر طبقات مثلاً بہوجن، دلت و پسماندہ طبقات کے ساتھ ساجھیداری کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست میں انقلاب برپا کریں گے جو سماجی انصاف کا ضامن ہوگا۔ امیدوار حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ ایم بی ٹی جناب امجد اللہ خان نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کی مسلمانوں کے ساتھ صرف لفظی ہمدردی، شعبدہ بازی اور ہتھکنڈوں کے سوائے کچھ نہیں ہے بالخصوص ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد تقریباً 10 مساجد شہید ہوئے، کئی ایک مسلمانوں کے انکاؤنٹر ہوئے، وقف کی لاکھوں کروڑ کی جائیدادوں کو لینڈ گرابرس اور موجودہ حکمرانوں نے مل کر لوٹا۔ اس کے برعکس قیادت کے نام نہام دعویدار صرف نعرہ بازی، شعبدہ بازی کرتے رہے اور حکومت کی تائید کرتے رہے اور زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمان آج پسماندہ طبقات سے بھی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ امجد اللہ خان نے نام نہاد قیادت کے دعویداروں اسدالدین اور اکبرالدین اویسی کو چیالنج کیاکہ وہ عوامی شہ نشین پر کھلے مباحثہ کا چیلنج قبول کریں۔ جناب امجد اللہ خان خالد نے الیکشن کمشنر اور پولیس کمشنر سے مطالبہ کیاکہ صاف و شفاف دستور کے مطابق عملی جامہ پہنانے کے لئے انتخابات کے دن بوگسنگ اور ریگنگ کو روکنا الیکشن کمیشن کا واحد مقصد ہے۔ بصورت دیگر الیکشن کمشنر اور پولیس انٹلی جنس کی ناکامی ہوگی۔ اس جلسہ عام سے صدارتی خطاب جناب مجید اللہ خان فرحت کے علاوہ مرکزی قائدین بشمول الحاج سید سلیم، سید مصطفی محمود، راشد ہاشمی، سکندر اللہ خاں، الطاف نصیب خان اور ماجد خان کے علاوہ دیگر موجود تھے۔