حیدرآباد ۔امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ خون کی شریانوں میں مسائل جیسے ان کا سکڑنا، ناقص غذا، جسمانی سرگرمیوں سے دوری اور تمباکو نوشی کو امراض قلب کی عام وجوہات سمجھا جاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر، انفیکشن وغیرہ بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔ تاہم چند غذاؤں کے ذریعہ ان امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، ساگ وغیرہ دل کو زیادہ صحت مند بناتی ہیں، ان میں موجود کیروٹین اینٹی آکسیڈنٹ کا کام کرکے جسم کو نقصان دہ مرکبات سے بچاتے ہیں۔آلو کی طرح ٹماٹر میں بھی دل کیلئے فائدہ مند پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹ لائیکوپین کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ نقصان دہ کولیسٹرول سے نجات میں مدد دے سکتا ہے، جس سے خون کی شریانیں کشادہ رہتی ہیں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔انار اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپوریہ پھل بلڈپریشر کو کم کرتا ہے اور خون کی گردش کو معمول پر لاتا ہے، جس سے امراض قلب اور ہارٹ اٹیک سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔اس کے علاوہ کیلے پوٹاشیم اْن جینز کو ریگولیٹ کرتا ہے، جو شریانوں کی لچک کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ محققین نے کہا ہے کہ روزانہ صرف ایک کیلا کھانے کی عادت فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچاو میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔اب چونکہ موسم گرما ہے لہذا دہی ہمارے کھانوں کی ایک عام غِذا ہے۔ دہی دل کی صحت اور بلڈ پریشر کیلئے فائدہ مند ہے۔ اس کا زیادہ استعمال خواتین میں30 فیصد جبکہ مردوں میں19فیصد تک خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کردیتا ہے۔
