امریکہ، افغانستان میں انسانی امداد جاری رکھے گا:بلنکن

   

٭ کابل سے تخلیہ ٭
سفارتی کام دوحہ سے انجام دیں گے، طالبان کا کابل ایرپورٹ سے پروازوں کی بحالی اولین ترجیح
واشنگٹن: امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ذریعہ نہیں بلکہ آزاد تنظیموں کے ذریعہ لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے یہ بیان ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ بلنکن نے پیر کو کہاکہ امریکہ افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا ‘‘طالبان پر ہماری پابندیوں کی وجہ سے یہ امداد حکومت کے ذریعے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔بلنکن نے کہا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ طالبان افغانستان میں انسانی امداد کے کاموں میں رکاوٹ ڈالیں گے ۔ دریں اثناء طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد کابل ہوائی اڈے سے جلد ہی پروازیں بحال کردی جائیں گی۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ‘‘ہماری ٹیم شہری ہوا بازی کے لئے ہوائی اڈے پر کام شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے اور جلد ہی گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں بحال کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈہ پر کام کی بحالی سے متعلق زیادہ تر تکنیک کو نقصان پہنچا ہے ، جسے درست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس سے قبل طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ سے پروازیں دوبارہ شروع کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ۔ ہمارا مقصد گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں بحال کرنا ہے ۔ بین الصوبائی گھریلو پروازوں کو تجارتی نقطہ نظر سے دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم ان پروازوں کو جلد از جلد شروع کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔دوسری طرف روس نے افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر یہ کہتے ہوئے ووٹ نہیں کیا کہ دستاویز میں دہشت گردی اور اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) دہشت گرد گروپ کا ذکر نہیں ہے ۔اقوام متحدہ میں روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے اپنے بیان میں کہا کہ دستاویز میں دہشت گرد حملے کے پس منظر کے باوجود آئی ایس اور مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے خلاف جدوجہد کا ذکر نہیں کیا گیا۔اقوام متحدہ میں چین کے نمائندے گینگ شوانگ نے بتایا کہ ان کا ملک مباحثے میں حصہ لینے کے باوجود ووٹ ڈالنے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس قرارداد کے مواد کے توازن کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں اور مجوزہ ترامیم کو مکمل طور پر منظور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کابل میں دہشت گردوں کے حملے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کا ہدف حاصل نہیں ہوا۔ غیر ملکی افواج کی جلد بازی سے مختلف دہشت گرد تنظیموں کو اپنی بنیاد قائم کرنے کا موقع ملنے کا امکان ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجی افواج اور اہلکاروں کا انخلا مکمل کرنے کے بعد، اس ملک کیلئے اپنے سفارتی کام قطر کے دارالحکومت دوحہ سے چلائے گا۔امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ اطلاع دی۔ بلنکن نے کہا کہ ہم نے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی معطل کر دی ہے اور اسے دوحہ منتقل کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں جلد ہی کانگریس کو اس سے مطلع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاہم دوحہ سے افغانستان کیلئے سفارتخانے کے معاملوں، انسانی امداد سے متعلق کاموں کوچلائیں گے ، طالبان کے ساتھ رابطے اور پیغام دینے سے متعلق ہم آہنگی کیلئے اتحادیوں، شراکت داروں، علاقائی اور بین الاقوامی فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔