امریکہ۔ایران امن معاہدہ پر نیتن یاہوپر گھبراہٹ طاری

   

واشنگٹن، 21 مئی (یو این آئی) امریکہ ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے ، صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے منگل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی نئی کوشش پر ایک ایسی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سخت بدمزہ رہی، ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید پریشانی کا شکار تھے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے تند و تیز لہجے میں گفتگو کی تھی، امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ گفتگو گزشتہ رات ہوئی۔ اسرائیلی و زیرِ اعظم کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ذرائع بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرکے اسرائیلی و زیر اعظم آگ بگولا ہو گئے تھے ۔ ذرائع کے مطابق قطر اور پاکستان نے دیگر علاقائی ثالث ممالک کی مشاورت سے ایک نیا امن مسودہ تیار کیا ہے ، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا ہے ۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دینے یا معاہدہ کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری طرف نیتن یاہو مذاکرات کے حوالے سے انتہائی شکوک رکھتے ہیں اور جنگ دوبارہ شروع کرکے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور اور اہم تنصیبات تباہ کرکے ایرانی حکومت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جب کہ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے ، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔