امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں ، شمالی کوریا نے میزائل داغ دیئے

   

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے فوجی مشقیں شروع کرنے کی مذمت کے چند گھنٹے بعد متعدد بیلسٹک میزائل داغ دیئے۔ اس عمل کو پیانگ یانگ نے ’’خطرناک اشتعال انگیز عمل‘‘ قرار دیا جس سے حادثاتی طور پر تصادم کا خطرہ ہے۔جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہ میزائل شمالی کوریا کے مغربی علاقے سے بحیرہ اصفر کی طرف داغا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی بیلسٹک میزائل کا یہ اولین مبینہ تجربہ تھا۔اتحادیوں کی سالانہ فریڈم شیلڈ مشقیں 20 مارچ تک جاری رہیں گی اگرچہ لائیو فائر کی مشقیں اس وقت معطل ہیں جب جنوبی کوریا کے جیٹ طیاروں نے گذشتہ ہفتے سرحد کے قریب ایک شہری قصبے پر غلطی سے بم گرا دیئے جس میں 29 افراد زخمی ہو گئے تھے۔شمالی کوریا نے امریکہ۔جنوبی کوریا کی مشترکہ مشقوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور انہیں حملے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ مشترکہ مشقوں کا مقصد شمالی کوریا جیسے خطرات کیلئے اتحاد کی تیاری کو مضبوط بنانا ہے۔سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ جزیرہ نما کوریا میں سنگین صورتِ حال کی طرف لے جانے والا ایک خطرناک اشتعال انگیز عمل ہے جو حادثاتی طور پر ایک گولی سے بھی فریقین کے درمیان جسمانی تصادم کو انتہا تک پہنچا سکتا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ مشقوں سے امریکی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔جنوبی کوریا کی فضائیہ کے سربراہ لی ینگ سو نے پیر کے روز اس ’’بے مثال‘‘ حادثے پر معافی مانگی جس میں دو جیٹ طیاروں نے غلطی سے گاؤں پر بمباری کی۔لی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا جو کبھی رونما نہیں ہونا چاہیے تھا اور اسے دوبارہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔وزارت دفاع سے اس پر تبصرے کیلئے فوری رابطہ نہ ہو سکا۔سیول سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) شمال مشرق میں پوچیون میں حادثاتی بمباری کا نشانہ بننے والا علاقہ شمالی کوریا کی سرحد کے قریب فوجی تربیتی علاقے سے باہر تھا۔علاقے کے رہائشیوں نے طویل عرصے سے مشقوں سے پیداشدہ خلل اور خطرات کے بارے میں شکایت کی ہے۔