امریکہ ایران جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔ ٹرمپ

   

واشنگٹن، 18 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر چہارشنبہ تک ایران کے ساتھ بات چیت کسی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی میں توسیع نہیں کر سکتے ، جس سے دوبارہ فوجی کارروائی کا خدشہ ہے ۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود پیر کو دوسرے دور کی بات چیت کیلئے ملاقات کرنے والے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔ ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ فریق ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ دریں اثنا، لبنان میں علیحدہ 10 روزہ جنگ بندی کے پہلے 24 گھنٹے موثر رہے ، حالانکہ لبنان نے بارہا اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے ۔ دیگر پیش رفت میں، امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اور چھوٹ جاری کی جس میں محدود سمندری راستوں سے روسی خام تیل کی ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی۔ یہ چھوٹ خاص طور پر 17 اپریل اور 16 مئی کے درمیان جہازوں پر لدے کارگوز لاگو ہوتی ہے ۔

ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری :امریکی سینٹ کام
واشنگٹن، 18 اپریل (یو این آئی) امریکی سینٹر کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی جاری ہے ۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے دوران ساحلی جنگی جہاز USS Canberra (LCS 30) بحیرہ عرب میں گشت کر رہا ہے ۔ بتایا گیا کہ ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 23 بحری جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے واپسی کا راستہ اختیار کیا ہے ، امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا نکلنے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں سینٹ کام نے کہا کہ 17 اپریل کو AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹروں نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کی۔

ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات پر برازیلی صدر برہم
برازیلیا، 18 اپریل (یو این آئی) برازیلی صدر ڈی سلوا نے امریکی صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر بیانات پر برہمی کا اظہار کرکے اہم مطالبہ کردیا۔ الجزیرہ کے مطابق برازیلی صدر نے کہا کہ سلامتی کونسل اپنا طرز عمل بدلے جنگیں روکنے میں یہ مکمل ناکام ہو چکی ہے ، ایسی دنیا میں ہر صبح آنکھیں نہیں کھول سکتے جہاں صدر ٹرمپ روز ٹویٹس سے دھمکیاں دیں۔ ڈی سلوا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جنگوں کے اعلانات عالمی امن اور سفارتکاری کیلیے بڑا خطرہ ہے ، اقوام متحدہ کی ساکھ بچانے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ممالک کی جانب سے دنیا کو دھمکانے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے ۔