امریکہ دریائے فرات کی مشرقی زمین کو شام کے کنٹرول میں نہیں جانے دے رہا:روس

   

ماسکو: روس وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاہرووا نے کہا ہے کہ امریکہ ،دریائے فرات کی مشرقی زمینوں کو شامی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں جانے دے رہا۔انہوں نے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مسئلہ شام کے بارے میں بیانات جاری کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا۔اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کے رپورٹر کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا روس شام کے شمالی حصے سے نکلنے کے لئے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے / وائی پی جی پر دباؤ ڈال رہا ہے یا نہیں؟ زاہرووا نے ترکی کے ، شام میں، برّی آپریشن پلان سے متعلق جاری کردہ بیان کی یاد دہانی کروائی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ “اس موضوع پر ہم، ترکی اور شامی فریقوں کے ساتھ، بھاری روابط جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں ایسے اقدامات مذکورہ علاقے کی پہلے سے سنگین صورتحال کو مزید خراب کر دیں گے اور علاقے کے عمومی حالات پر منفی اثرات مرتب کریں گے ۔ ہمارے خیال میں انقرہ اور دمشق کے درمیان روابط کا قیام سرحدی علاقے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنائے گا۔ اس معاملے میں وسیع پیمانے پر تناو کے سدّباب کے لئے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط جاری ہیں”۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں انقرہ اور دمشق کے درمیان روابط کا قیام سرحدی علاقے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنائے گا۔ترجمان ماریہ زاہرووا نے کہا ہے کہ ہم نے ،شام میں دریائے فرات کی مشرقی زمینوں پر انتظامیہ کے کنٹرول کے لئے ، علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے / وائی پی جی اور شامی انتظامیہ کے درمیان ڈائیلاگ شروع کروانے کی کوشش کی ہے لیکن علاقے میں ا مریکہ کی غیر قانونی موجودگی اس کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے شام کے شمال میں امریکہ کے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے / وائی پی جی کے ساتھ تعاون کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ ” امریکی، مذکورہ زمینوں کو دمشق کے کنٹرول سے باہر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ زمینیں پیٹرول اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہیں۔