نیویارک: امریکہ نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ البتہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی صورتحال پر وہ قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔امریکہ نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ اس طرح کے دعوے قطعی طور پر غلط ہیں۔بنگلہ دیش میں رواں ماہ کے پہلے ہفتے کے دوران طلبہ کے زبردست احتجاج اور ملک گیر پرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ استعفیٰ دے دیا تھا اور فرار ہو کر بھارت پہنچی تھیں، تبھی سے وہ نئی دہلی کی پناہ میں ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقامی میڈیا میں، شیخ حسینہ سے منسوب اس بیان کے کافی چرچے رہے ہیں، کہ اگر انہوں نے انڈین اوشیئن میں واقع جزیرہ سینٹ مارٹن کو امریکہ کے حوالے کر دیا ہوتا، تو شاید وہ اقتدار میں برقرار رہتیں۔پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ شیخ حسینہ سے منسوب یہ بیان میڈیا میں گردش کر رہا ہے، کہ اگر انہوں نے امریکہ کے مطالبات تسلیم کر لیے ہوتے، تو ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تھا اور یہ کہ انہوں نے جزیرہ سینٹ مارٹن امریکہ کے حوالے نہیں کیا اس لیے ان کو معزول کرنے کی کوشش کی گئی؟اس پر وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرین ڑاں پیئر نے جوابا کہا کہ اس میں، ہمارا کوئی دخل نہیں تھا۔ ایسی کوئی بھی خبر یا افواہیں کہ ان واقعات میں امریکہ کی حکومت ملوث تھی سراسر غلط ہے۔ یہ سچ نہیں ہے۔ ڑاں پیئر نے مزید کہا کہ بنگلہ دیشی عوام کو اپنی حکومت کے مستقبل کا تعین کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ یہ بنگلہ دیشی عوام کیلئے اور ان کا اپنا انتخاب ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام کو اپنی حکومت کے مستقبل کا تعین کرنا چاہیے اور یہی ہمارا موقف ہے۔ یقینی طور پر کوئی بھی الزام، میں نے یہاں کہا ہے اور ہم کہتے رہیں گے، قطعی سچ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ اجاگر کرتے ہوئے کہ صدر جو بائیڈن انسانی حقوق کے مسائل پر “بلند اور واضح بات کرنے میں مستقل مزاج ہیں کہا کہ امریکہ بنگلہ دیش کی صورتحال کی نگرانی اور مشاہدہ جاری رکھے گا۔بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور اقلیتوں پر حالیہ حملوں کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر ہونے والے مظاہروں پر انہوں نے کہاکہ ہم یقینی طور پر صورتحال کی نگرانی جاری رکھیں گے۔
میرے پاس اس سے زیادہ کہنے کو کچھ نہیں ہے۔