امریکہ میں ایک بلین ڈالر سے زائد کے پچاس فیصد تجارتی ادارے ہندوستانیوں کی ملکیت، مئی 2022 تک تیار کی گئی رپورٹ میں انکشاف

   

حیدرآباد۔27 جولائی (سیاست نیوز) ہندستانی شہریوں کے ملک چھوڑنے اور دولت مند طبقہ کی ہجرت کی اطلاعات کے دوران امریکی ادارہ نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی کی گذشتہ یوم منظر عام پر آنے والی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک بلین ڈالر اور اس سے زائد والی جملہ کمپنیوںمیں 50فیصد تجارتی ادارے ہندستانیوں کی ملکیت ہیںاور ہندستانیوں کی جانب سے چلائے جا رہے ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق مہاجر تاجرین اور امریکی بلین ڈالر کمپنیوں کے مطالعہ کے مطابق امریکہ میں ایک بلین ڈالر سے زائد لاگت کی 66 ایسی کمپنیاں ہیں جو کہ ہندستانی مہاجرین کی جانب سے چلائی جا رہی ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ یہ تمام کمپنیاں یونیکارن کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں یونیکارن کمپنی سے مراد وہ کمپنیاں ہوتی ہیں جس میں عوامی سرمایہ یا شراکت داری کے ساتھ نہیں چلائی جاتی بلکہ شخصی ملکیت اور مالکانہ حقوق رکھنے والی کمپنیاں ہیں۔ نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی کی رپورٹ امریکہ میں ایک بلین ڈالر یا اس سے زائد سرمایہ کے ساتھ شروع کی جانے والی 10 کمپنیوںمیں 4 کمپنیاں ہندستانیوں کی ہیں۔مجموعی اعتبار سے امریکہ میں چلائی جانے والی جملہ یونیکارن کمپنیوں میں 80 فیصد کمپنیاں غیر امریکی باشندوں کی جانب سے قائم کی جا رہی ہیں۔اس مطالعہ میں شامل محققین کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے لئے 1بلین ڈالر یا اس سے زائد مالیت کی جملہ 580کمپنیوں کے ذمہ داروں اور ممکنہ حد تک مالکین سے بات چیت کی گئی اور ان کے انٹرویو لئے گئے ۔ مسٹر اسٹوارٹ اینڈرسن نے بتایا کہ مئی 2022 تک کے اعداد وشمار کے ساتھ تیار کی گئی اس رپورٹ میں مزید ہندستانی شہریوں کا اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ سال 2023کے لئے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ ایمگریشن سروس میں مجموعی اعتبار سے 4لاکھ 83ہزار927 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں 82 فیصد درخواستوں کو USICS نے مسترد کردیا ہے جو کہ مجموعی اعتبار سے 4لاکھ درخواستیں ہوتی ہیں۔ م