امریکہ میں برڈ فلو سے پہلی ہلاکت

   

نیویارک: امریکہ میں برڈ فلو کے باعث پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے تاہم صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر کسی بڑے خطرے کا اندیشہ نہیں ہے۔ جانوروں اور انسانوں میں برڈ فلو کے کیسز نے سائنسدانوں کیلئے ایک مرتبہ پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مہلک وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی ریاست لوزیانا میں برڈ فلو سے ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 65 برس تھی اور وہ دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا تھا۔لوزیانا میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص دسمبر کے وسط سے ہاسپٹل میں داخل تھا جب امراض پر قابو پانے والے امریکی سنٹر نے اس کو ایچ فائیو این ون وائرس سے متاثر ہونے والا ملک کا پہلا کیس قرار دیا۔
لوزیانا کے محکمہ صحت نے مریض کی موت کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ ’اگرچہ عام لوگوں کیلئے خطرہ کم ہے لیکن جو لوگ پرندوں، پولٹری اور گائے کی دیکھ بھال یا اس سے منسلک کام کرتے ہیں، ان کیلئے خطرہ زیادہ ہے۔‘بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پالتو اور جنگلی پرندوں کے ساتھ رابطے میں آنے سے مریض ایچ فائیو این ون وائرس سے متاثر ہو گیا تھا تاہم انسان سے کسی دوسرے انسان میں وائرس کے منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔سال 2024 کے آغاز سے امراض پر قابو پانے والے امریکی سینٹر سی ڈی سی نے ملک بھر میں انسانوں کے برڈ فلو سے متاثر ہونے کے 66 کیسز ریکارڈ کیے ہیں۔