ائمہ و موذنین کو معیاری و کفایتی علاج کی فراہمی

   

روزنامہ سیاست اور ویسٹرن ہاسپٹل کے تعاون سے AQZA کارڈز کی تقسیم
افتتاحی تقریب سے نیوز ایڈیٹرسیاست جناب عامر علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔27 ۔ جون (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست اور ویسٹرن ہاسپٹل لکڑی کا پل کے تعاون و اشتراک سے شروع کئے گئے AQZAکارڈ اسکیم کے تحت 160 آئمہ و مؤذنین میں اس کارڈ کی تقسیم عمل میں آئی ۔ آئمہ و مؤذنین کے معیاری اور کفایتی علاج کی سہولت کے لئے شروع کی گئی اس AQZA ہیلت کارڈ اسکیم کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ ویسٹرن ہاسپٹل انتظامیہ نے جب ان سے رجوع کیا کہ امت مسلمہ کے لئے کوئی فلاحی خدمت صحت کے میدان میں شروع کرنے کا ارادہ ہے تو انہوں نے سب سے پہلے آئمہ و مؤذنین کے لئے معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کی تجویز پیش کی جسے ویسٹرن ہاسپٹل انتظامیہ نے قبول کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ادارۂ سیاست کے تعاون و اشتراک سے شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت کارڈ رکھنے والے آئمہ و مؤذنین کو رعایتی و کفایتی قیمت پر علاج کی سہولت حاصل رہے گی۔جناب عامر علی خان نے بتایا کہ دواخانہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتیں بالخصوص دواخانہ میں دوران علاج شریک رہنے والوں کو مفت طبی تشخیص ‘ مفت رہائش ‘ علاج کے دوران مکمل رہنمائی و معاونت کے علاوہ ان پیشنٹ کیئر فراہم کیا جائے گا ۔ کارڈ رکھنے والے آئمہ و مؤذنین کو ادویات کے علاوہ دوران علاج کی جانے والی طبی تشخیص کے سامان کی قیمت ادا کرنی ہوگی اور لیباریٹری میںکئے جانے والے معائنوں کے لئے رعایتی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ڈاکٹر متین الدین سلیم اور جناب عامر علی خان کی نگرانی میں شروع کئے گئے اس فلاحی منصوبہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہا کہ آئمہ و مؤذنین ملت اسلامیہ کی رہنمائی کرنے والے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اگر اس طبقہ کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ سب سے بڑی نادانی ہوگی اسی لئے ویسٹرن ہاسپٹل کے انتظامیہ اور ادارہ سیاست نے تعاون و اشتراک کے ذریعہ آئمہ و مؤذنین کے لئے AQZA کارڈ کی اسکیم شروع کی ہے۔اس تقریب میں ڈاکٹر متین الدین سلیم ‘ ڈاکٹر اکبر حسن ‘ ڈاکٹر مصطفی فیصل ‘ ڈاکٹر شاہ علی حسینی ‘ ڈاکٹر عبید ‘ ڈاکٹر یامین‘ ڈاکٹر علوی اور ڈاکٹر جی ایم علوی کے علاوہ آئمہ و مؤذنین اور رضاکارانہ تنظیموں کے ذمہ دار موجود تھے ۔ جناب عامر علی خان نے اپنے خطاب کے دوران انشورنس کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہندستانی مسلمانوں کو حکمت عملی کے تحت انشورنس پالیسی بالخصوص صحت کے لئے پالیسی حاصل کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے بلکہ دیگر انشورنس اسکیمات سے بھی استفادہ کرنے میں پہل کرنی چاہئے تاکہ اگر کسی بھی طرح کے نقصان ہوں تو اس کی پابجائی حکومت کو کرنی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جس انداز میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ان حالات سے مقابلہ کیلئے مسلمانوں کو منصوبہ بند انداز میں حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔3/a/b