امریکہ میں مولنوپیر اور ٹیابلٹ ایف ڈی اے سے منظوری کیلئے کوشاں

   

کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایمرجنسی میں استعمال کی اجازت طلب ، مختلف تجربات
حیدرآباد۔ امریکہ میں مولنو پیراور نامی گولی ایف ڈی اے کی منظوری کے لئے روانہ کی جائے گی تاکہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے ایمرجنسی میں اس دوا کا استعمال کیا جاسکے۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ماہر وبائی امراض نے بتایا کہ دنیا بھر میں اس دوا کو روشناس کروانے کے لئے مختلف تجربات کئے جاچکے ہیں اور ان تجربات کے بعد ہی ایف ڈی اے کی منظوری کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر اس دوا کو منظوری حاصل ہوجاتی ہے تو مولنو پیراور نامی یہ دوا جو لوگ ویکسین نہیں لینا چاہتے ہیں ان کے لئے بھی متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر جل رابرٹ گذشتہ ایک سال سے اس دوا پر تجربات کر رہے تھے اور ان کے تجربات کے متعلق وہ دعوی کر رہے ہیں کہ یہ گولیاں جو کہ وبائی امراض کے خاتمہ اور اینٹی بیکٹیریا کے لئے استعمال کی جا رہی ہیں وہ کورونا وائرس کے علاج میں انتہائی معاون ثابت ہونے لگی ہیں اسی لئے ان ادویات کا مختلف مریضوں پر تجربہ کیا گیا ہے جو کہ کورونا وائرس کے علاوہ SArSوائر س کا شکار ہوئے تھے اور ان تجربات کے دوران حاصل ہونے والے نتائج سے کئی ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ڈاکٹر جل رابرٹ نے بتایا کہ اگر ایف ڈی اے کی جانب سے ان ادویات کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں کمی کے ساتھ ساتھ ان مریضوں کے بہتر علاج کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے اور جو مریض مختلف وبائی امراض میں مبتلاء ہیں ان مریضوں کے لئے بھی یہ ادویات کارکرد ثابت ہوسکتی ہیں۔فلوریڈا کے شہر ٹامپا میں تیار کی گئی اس دوا پر تحقیق کرنے والوں کا کہناہے کہ اس دوا کو ویکسین کا متبادل قرار دینے سے قبل اس کے مزید ٹرائیل مکمل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کی وباء کے ساتھ ہی تحقیق کا کام کرنے والے اداروں کی جانب سے ادویات سازی پر کام شروع کیا گیا تھا اور مولنو پیراور دنیا بھر میں پہلی ایسی دوا ہے جو کہ گولی کی شکل میں تیار کی گئی ہے اور اس دوا کا تجربہ مختلف جانوروں پر بھی کیا جاچکا ہے اس کے بعد انسانوں پر اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا اور اب یہ ایف ڈی اے کو روانہ کی جار ہی ہے ۔ ایف ڈی اے کی جانب سے اس دوا کو منظوری کی صورت میں ایمرجنسی میں استعمال کی جانے والی یہ گولیاں دنیا بھر میں استعمال کی جانے لگیں گی اور یہ ویکسین کا متبادل ثابت ہوسکتی ہیں۔